والدین کی خاموش پریشانی — ہمارے بعد بچے کا کیا ہوگا؟
تحریر: محمد طارق خان
تھیلیسیمیا میجر کے بچے کے علاج میں خون، ادویات اور ٹیسٹ نظر آتے ہیں، لیکن ایک چیز ایسی ہے جو کسی لیبارٹری رپورٹ میں دکھائی نہیں دیتی۔ یہ ماں باپ کے دل میں موجود وہ مستقل خوف، ذہنی تھکن اور مستقبل کی فکر ہے جو برسوں ان کے ساتھ چلتی رہتی ہے۔
والدین اپنے بچے کو علاج کے لیے لے جاتے ہیں، خون کا انتظام کرتے ہیں، دوا کا خیال رکھتے ہیں اور ڈاکٹر کے تجویز کردہ ٹیسٹ کرواتے ہیں۔ بظاہر وہ مضبوط دکھائی دیتے ہیں، لیکن ان کے ذہن میں کئی سوال مسلسل گردش کرتے رہتے ہیں۔ اگلی مرتبہ خون بروقت مل جائے گا؟ دوا اور ٹیسٹ کا خرچ کیسے پورا ہوگا؟ بچہ اپنی تعلیم مکمل کرسکے گا؟ اسے روزگار ملے گا؟ معاشرہ اسے قبول کرے گا؟
اور ان تمام سوالات کے درمیان ایک سوال ایسا ہے جو شاید ہر ماں باپ کے دل کی گہرائی میں موجود رہتا ہے:
اگر ہم دنیا میں نہ رہے تو ہمارے بچے کا کیا ہوگا؟
یہ سوال محض ایک جذباتی جملہ نہیں۔ تھیلیسیمیا میجر کے بچے کی پرورش کرنے والے والدین جانتے ہیں کہ اس کی زندگی علاج کے ایک مسلسل نظام سے وابستہ ہے۔ انہیں فکر ہوتی ہے کہ ان کے بعد بچے کو علاج کے لیے کون لے جائے گا؟ خون کے انتظام میں کون مدد کرے گا؟ دوا اور ٹیسٹ کا خیال کون رکھے گا؟ بیماری کی پیچیدگیوں کو کون سمجھے گا اور مشکل وقت میں اس کے ساتھ کون کھڑا ہوگا؟
یہی فکر بعض والدین کے لیے ذہنی دباؤ کا مستقل سبب بن سکتی ہے۔
ماں کی فکر، باپ کی خاموش جدوجہد
ہمارے معاشرے میں عموماً ماں بچے کی روزمرہ دیکھ بھال میں مرکزی کردار ادا کرتی ہے۔ اسے دوا یاد رکھنی ہوتی ہے، بچے کی طبیعت میں ہونے والی تبدیلیوں پر نظر رکھنی ہوتی ہے، ٹیسٹ اور علاج کی تاریخوں کا خیال رکھنا ہوتا ہے اور ساتھ ہی گھر کے دوسرے معاملات بھی سنبھالنے ہوتے ہیں۔
بعض مائیں اپنی نیند، آرام اور اپنی صحت تک نظرانداز کردیتی ہیں کیونکہ ان کی پہلی ترجیح بچہ ہوتا ہے۔
دوسری طرف باپ کی اپنی خاموش جدوجہد ہوتی ہے۔ علاج کے اخراجات، خون کا انتظام، ہسپتال کا سفر، گھر کا خرچ اور دوسرے بچوں کی ضروریات اس کے ذہن میں رہتی ہیں۔ اگر وہ یومیہ اجرت پر کام کرتا ہو تو بچے کے علاج کے لیے ہسپتال میں گزارا ہوا دن اس کی ایک دن کی آمدنی بھی لے سکتا ہے۔
بہت سے والد اپنی پریشانی ظاہر نہیں کرتے، لیکن خاموش رہنے کا مطلب یہ نہیں کہ انہیں ذہنی دباؤ نہیں۔
والدین سے بھی پوچھیں: آپ کیسے ہیں؟
تھیلیسیمیا مرکز میں عموماً ساری توجہ بچے کی صحت پر ہوتی ہے، اور ایسا ہونا بھی چاہیے۔ لیکن بچے کی دیکھ بھال کرنے والے والدین کی کیفیت بھی اہم ہے۔
کبھی ماں اور باپ سے بھی پوچھا جانا چاہیے: آپ کیسے ہیں؟ آپ کو سب سے زیادہ کس مشکل کا سامنا ہے؟ کیا علاج کے اخراجات پریشان کررہے ہیں؟ کیا ہسپتال آنے جانے میں مشکل ہے؟ کیا آپ کو کسی رہنمائی یا مدد کی ضرورت ہے؟
یہ چند سوال کسی پریشان والد یا ماں کے لیے بہت معنی رکھتے ہیں۔
بچے کے بڑے ہونے کے ساتھ والدین کی فکریں بھی بدلتی ہیں
چھوٹی عمر میں والدین کی زیادہ توجہ خون، دوا اور ٹیسٹ پر ہوتی ہے۔ لیکن بچہ بڑا ہوتا ہے تو سوال بھی بڑے ہونے لگتے ہیں۔
اس کی تعلیم کیسے مکمل ہوگی؟ بار بار علاج کی وجہ سے اسکول یا کالج سے چھٹی اس کی پڑھائی کو متاثر تو نہیں کرے گی؟ کیا وہ اعلیٰ تعلیم حاصل کرسکے گا؟ کیا اسے ملازمت مل سکے گی؟ کیا وہ معاشی طور پر خودمختار ہوسکے گا؟ کیا معاشرہ اسے ایک عام نوجوان کی طرح قبول کرے گا؟
اور پھر شادی اور خاندانی زندگی کے بارے میں بھی والدین کی فکرمندی شروع ہوجاتی ہے۔
بچے کو خودمختار بنانا بھی علاج کا حصہ ہونا چاہیے
والدین ہمیشہ بچے کے ساتھ نہیں رہ سکتے، لیکن وہ اسے مستقبل کے لیے تیار ضرور کرسکتے ہیں۔
بچے کی عمر اور سمجھ کے مطابق اسے آہستہ آہستہ اپنی بیماری اور علاج کے بارے میں بتایا جائے۔ اسے سمجھایا جائے کہ ڈاکٹر کی تجویز کردہ دوا کیوں ضروری ہے، ٹیسٹ کیوں کروائے جاتے ہیں، اپنا طبی ریکارڈ کیسے محفوظ رکھنا ہے اور طبیعت خراب ہونے پر کس ڈاکٹر یا علاج گاہ سے رابطہ کرنا ہے۔
جیسے جیسے بچہ نوجوانی کی طرف بڑھے، اسے اپنی صحت کی ذمہ داری سنبھالنے میں شریک کیا جائے۔ اس کا مقصد اسے خوفزدہ کرنا نہیں بلکہ بااعتماد اور خودمختار بنانا ہے۔
معاشرے کا رویہ بھی بچے کا مستقبل بناتا ہے
تھیلیسیمیا میجر کا بچہ صرف ایک مریض نہیں۔ وہ ایک مکمل انسان ہے۔
اس کے خواب ہیں، صلاحیتیں ہیں، تعلیم حاصل کرنے کا حق ہے، روزگار کا حق ہے اور عزت و وقار کے ساتھ زندگی گزارنے کا حق ہے۔
ہمیں ایسے بچوں کو غیر ضروری ہمدردی، احساسِ کمتری یا معاشرتی فاصلے کا شکار نہیں بنانا چاہیے۔ اسکول، کالج، ملازمت اور معاشرتی زندگی میں انہیں ان کی صلاحیت کے مطابق مواقع ملنے چاہئیں۔
ماں باپ مضبوط ستون ہیں، لیکن ان ستونوں کو بھی سہارے کی ضرورت ہے
تھیلیسیمیا میجر کے بچے کے والدین برسوں تک اس کے لیے مضبوط ستون بنے رہتے ہیں۔ مگر یہ سمجھنا ضروری ہے کہ مسلسل ذمہ داری اٹھانے والے ان والدین کو بھی جذباتی، معاشرتی اور عملی مدد درکار ہوتی ہے۔
تھیلیسیمیا مراکز اور فلاحی اداروں میں جہاں ممکن ہو، والدین کی تربیت اور رہنمائی کو علاج کے نظام کا حصہ بنایا جائے۔
انہیں آسان زبان میں بتایا جائے کہ علاج کا ریکارڈ کیسے رکھنا ہے، ڈاکٹر کے مقرر کردہ ٹیسٹ اور دوا کی تاریخیں کیسے یاد رکھنی ہیں اور ضرورت پڑنے پر کہاں رابطہ کرنا ہے۔
جو والدین پڑھ نہیں سکتے، ان کے لیے مختصر فون کال یا آواز کے ذریعے یاددہانی مفید ہوسکتی ہے۔
والدین کے بعد بچے کے لیے ایک نظام ہونا چاہیے
یہ شاید اس پورے مسئلے کا سب سے اہم پہلو ہے۔
ہمیں ایسا نظام بنانے کے بارے میں سوچنا ہوگا جو صرف اس وقت تک بچے کے ساتھ نہ ہو جب تک اس کے والدین خود تمام ذمہ داریاں اٹھا رہے ہیں۔
بچے کا مکمل طبی ریکارڈ ہو، علاج کی معلومات محفوظ ہوں، خاندان کے دوسرے ذمہ دار افراد بھی علاج سے واقف ہوں، نوجوان مریض خود اپنی صحت کے بنیادی معاملات سمجھتا ہو اور علاج گاہ کے ساتھ اس کا مستقل رابطہ موجود ہو۔
تب والدین کے دل میں موجود یہ خوف کچھ کم ہوسکتا ہے کہ “ہمارے بعد ہمارے بچے کا کیا ہوگا؟”
اس سوال کا مکمل جواب شاید کسی ایک ڈاکٹر، ادارے یا خاندان کے پاس نہ ہو۔ لیکن ایک مضبوط نظام، تربیت یافتہ خاندان، باخبر مریض اور ذمہ دار معاشرہ مل کر اس کا بہتر جواب ضرور بن سکتے ہیں۔
تھیلیسیمیا میجر کے خلاف ہماری جدوجہد صرف زندگی بچانے تک محدود نہیں
ہماری کامیابی صرف یہ نہیں کہ بچے کو بروقت خون مل گیا، دوا مل گئی یا ٹیسٹ ہوگیا۔
اصل کامیابی یہ ہوگی کہ تھیلیسیمیا میجر کا بچہ تعلیم حاصل کرے، اپنی صلاحیت پہچانے، ہنر سیکھے، روزگار حاصل کرے، اپنے علاج کو سمجھ سکے اور عزت و وقار کے ساتھ زندگی گزارے۔
اور اس کے والدین یہ محسوس کرسکیں کہ ان کا بچہ صرف ان کے سہارے پر نہیں بلکہ ایک ایسے مضبوط طبی، خاندانی اور معاشرتی نظام کے ساتھ کھڑا ہے جو مستقبل میں بھی اس کا ساتھ دے گا۔
تھیلیسیمیا میجر کے خلاف ہماری جدوجہد کا مقصد صرف زندگی بچانا نہیں، بلکہ بچے اور اس کے والدین کو ایک بہتر، محفوظ، خودمختار اور باوقار مستقبل دینا بھی ہونا چاہیے۔


_2026_07_24_13_17_24_24515247.png)
Leave A Comment