خوابیدگی کے دوران آم کے چھپے ہوئے تیلہ کی تلفی کو مناسب کیڑے مار زہر کے سپرے سے ممکن بنایا جائے،ترجمان محکمہ زراعت
ایشیا اردو
ترجمان محکمہ زراعت پنجاب کے مطابق باغبان آم کے تیلہ اور دیگر نقصان دہ کیڑوں کے کنٹرول کیلئے بروقت اقدامات کریں۔خوابیدگی کے دوران تیلہ کا بروقت تدارک پھولوں کے موسم میں نقصان دہ کیڑوں کے ممکنہ حملے میں کمی کا باعث بن سکتا ہے۔ آم کا تیلہ باغات میں سارا سال پردار حالت میں موجود رہتا ہے۔ موسم سرما میں درختوں کی کٹی پھٹی چھال اور پتوں کے نیچے پناہ لیتا ہے۔ بالغ کیڑے کثیر تعداد میں تنوں کی چھال میں چھپ کر موسم سرما میں گزار لیتے ہیں۔ ماہ فروری کے اوائل میں درجہ حرارت کے بڑھنے پر چھال سے دوبارہ باہر نکل آتے ہیں اور پھر یہ پھولوں کے گچھوں پر اکٹھے ہوجاتے ہیں اور وہاں رس چوس کر پھول سے پھل بننے کے عمل کو متاثر کرتے ہیں۔ خوابیدگی کے دوران آم کے چھپے ہوئے تیلہ کی تلفی کو مناسب کیڑے مار زہر کے سپرے سے ممکن بنایا جائے۔ ہاتھ والی سپرے مشین (نیپ سیک سپرئیر) کے ذریعے صرف درختوں کے تنوں پر سپرے کریں۔ اس مقصد کیلئے امیڈاکلوپرڈ (200 ملی لٹر فی 100 لٹر پانی)، کلوتھیانیڈن (150 ملی لٹر فی 100 لٹر پانی) یا ڈائی نوٹیفیوران (50 گرام فی 100لٹر پانی) کے استعمال سے آم کے تیلے کا مناسب تدارک ممکن ہے۔ خوابیدگی کے دوران اس کیڑے کے خلاف مناسب حکمت عملی سے نئے پھول نکلنے پر اور پھل بننے کے ابتدائی مراحل تک اس کیڑے کی آبادی میں واضح کمی کی جاسکتی ہے۔



Leave A Comment