تحریر: چوہدری عبدالرحیم شاہد

ملتان الیکٹرک پاور کمپنی (میپکو) نے گزشتہ دو برسوں میں 36 ارب روپے کے تاریخی خسارے کا خاتمہ کر کے 1.05 ارب روپے کا خالص منافع حاصل کر لیا ہے۔ ملکی تاریخ میں پہلی پوزیشن حاصل کرنے اور مجموعی طور پر 37 ارب روپے سے زائد کا ٹرن اراؤنڈ دکھانے کا یہ دعویٰ جہاں حکومتی ایوانوں میں ایک بے مثال انقلابی کارنامے کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے، وہاں جنوبی پنجاب کے کروڑوں غریب، دیہاڑی دار اور متوسط طبقے کے صارفین کے لیے یہ کامیابی خون نچوڑنے کے مترادف ثابت ہوئی ہے۔ اعداد و شمار کا یہ جادوئی الٹ پھیر بظاہر تو شاندار دکھائی دیتا ہے، لیکن اس کی پشت پر چھپی تلخ حقیقت غریب عوام کی آہیں، سسکیاں اور بدترین معاشی قتلِ عام ہے۔وفاقی وزیر توانائی سردار اویس احمد خان لغاری کی قیادت میں پاور ڈویژن نے میپکو کی اس کامیابی کو ایک قابلِ تقلید اصلاحاتی ماڈل قرار دیا ہے۔

News Image

ترجمان پاور ڈویژن کے مطابق، میپکو انتظامیہ نے جامع اصلاحات، جدید ٹیکنالوجی کے استعمال اور آزادانہ فیصلہ سازی کے ذریعے کارکردگی میں انقلابی بہتری لائی ہے۔ کمپنی کے لائن لاسز جو کبھی 15.2 فیصد تھے، اب کم ہو کر 11.9 فیصد پر آ گئے ہیں۔ سب سے حیران کن دعویٰ بلوں کی وصولی کا ہے، جس کی شرح 98.6 فیصد سے بڑھ کر 100.8 فیصد تک جا پہنچی ہے۔ حکومت کا موقف ہے کہ بورڈ آف ڈائریکٹرز کی خودمختاری، موثر بلنگ، آٹومیشن اور بجلی چوری کی بے رحم روک تھام نے کمپنی کو دیوالیہ ہونے سے بچایا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اب اسی ماڈل کو ملک کی دیگر بجلی تقسیم کار کمپنیوں میں بھی نافذ کیا جا رہا ہے تاکہ توانائی کا بحران مستقل بنیادوں پر حل ہو سکے۔حکومتی بیانیے اور اس شاندار تصویر سے ہٹ کر اگر گراؤنڈ رئیلٹی کا جائزہ لیا جائے تو یہ خوفناک حقیقت سامنے آتی ہے کہ ریکوری کی شرح کو 100 فیصد سے اوپر لے جانے کے لیے غریب صارفین کو قربانی کا بکرا بنایا گیا۔ یہاں سب سے حیران کن اور دکھتا ہوا پہلو یہ ہے کہ موجودہ وفاقی وزیر توانائی سردار اویس احمد خان لغاری کا تعلق خود اسی خطے، یعنی جنوبی پنجاب سے ہے اور وہ خود بھی میپکو کے دائرہ اختیار میں آنے والے معزز صارف ہیں۔ خطے کا سپوت ہونے کے ناطے عوام کو امید تھی کہ وہ اس پسماندہ علاقے کی محرومیوں اور شدید گرمی کے ستائے شہریوں کے دکھوں کا مداوا کریں گے، لیکن افسوس کہ ان ہی کی ناک کے نیچے ریکوری کے ہدف پورے کرنے کے لیے ظلم کی نئی داستانیں رقم کی گئیں۔ جنوبی پنجاب کے عوام کو بجلی چوری کی مہم کے نام پر بدترین انتقام کا نشانہ بنایا گیا۔ لائن لاسز کم دکھانے اور اوپر سے ملے ہوئے "ریکوری ٹارگٹس" کو پورا کرنے کے لیے میپکو افسران نے عام اور شریف صارفین پر لاکھوں روپے کے فرضی اور بھاری جرمانے یعنی ڈیڈکشن بلز عائد کیے۔ ایک عام مزدور یا ریڑھی بان جس کا بل چند ہزار آتا تھا، اسے اچانک لاکھوں کا ڈیڈکشن بل تھما دیا گیا، جسے جمع نہ کروانے پر پولیس مقدمات اور گرفتاریوں کی دھمکیاں دی گئیں۔مہنگائی کے اس ہوش ربا دور میں جہاں غریب دو وقت کی روٹی کو ترس رہا ہے، وہاں بلوں کی ادائیگی میں معمولی تاخیر پر بھی میٹر فوری کاٹ دیے جاتے ہیں۔ قسطوں کی سہولت تقریباً ختم کر دی گئی ہے اور دوبارہ کنکشن کے لیے بھاری فیسیں وصول کر کے عوام کی چمڑی ادھیڑی جا رہی ہے۔

روزنامہ ایشیا اردو میں پبلش ارٹیکل

جدید مانیٹرنگ اور آٹومیشن کے نام پر میٹرز کی تیز رفتاری اور اوور بلنگ کی شکایات عام ہیں، لیکن غریب صارفین جب میپکو کے دفاتر کے چکر کاٹتے ہیں تو ان کی شنوائی کرنے والا کوئی نہیں ہوتا، بلکہ انہیں ہراساں کیا جاتا ہے۔ افسر شاہی کو صرف اپنے ٹارگٹس پورے کرنے سے غرض ہے، چاہے اس کے لیے کسی سفید پوش کا چولہا ہی کیوں نہ بجھ جائے۔ وفاقی وزیر کو اس بات کا ادراک ہونا چاہیے کہ جس دھرتی نے انہیں طاقت کا قلمدان سونپا، اسی دھرتی کے باسی آج ان کے محکمے کے جابرانہ قوانین کے ہاتھوں سسک رہے ہیں۔اخبارات کے صفحات پر 37 ارب روپے کا مالیاتی یو-ٹرن بظاہر ایک تمغہ ہے، لیکن یہ کامیابی عوام کو سستی بجلی یا ریلیف دے کر حاصل نہیں کی گئی۔ یہ منافع غریب کی جیب پر ڈاکہ ڈال کر، چادر اور چار دیواری کا تقدس پامال کر کے اور زبردستی جرمانوں کی وصولی سے کشید کیا گیا ہے۔ ایک ایسے ملک میں جہاں بجلی کے بل عام آدمی کی پہنچ سے باہر ہو چکے ہوں، وہاں کسی سرکاری کمپنی کا اربوں روپے کا منافع کمانا کامیابی نہیں بلکہ عوامی محرومی اور ریاستی بے حسی کا اشتہار ہے۔ اصلاحات کا عمل ناگزیر ہے اور بجلی چوری کا خاتمہ ہونا چاہیے، لیکن اس کا رخ اندرونی کرپشن، افسر شاہی کی مفت بجلی کی عیاشیوں اور تکنیکی خرابیوں کی طرف ہونا چاہیے، نہ کہ صرف مظلوم صارفین کو کچلنے کی طرف۔ حکومت اور بالخصوص سردار اویس لغاری کو چاہیے کہ وہ اپنی پیٹھ تھپتھپانے کے بجائے اس بات کا نوٹس لیں کہ یہ منافع کس قیمت پر حاصل ہوا۔ جب تک سرکاری اداروں کے منافع کا معیار غریب کی معاشی بقا کو داؤ پر لگانا رہے گا، تب تک ایسی کسی بھی کامیابی کو عوامی سطح پر پذیریائی نہیں مل سکتی۔۔۔

You Might Also Like

Leave A Comment

جڑے رہیے

نیوز لیٹر

کیلنڈر

اشتہار