خانیوال: میاں چنوں کے تحصیل ہیڈکوارٹر ہسپتال کے ڈائیلاسز یونٹ میں بچیوں اور ایک خاتون سمیت 6 مریضوں میں ایچ آئی وی کی علامات ظاہر ہونے کا معاملہ سامنے آیا ہے، جس کے بعد مریضوں اور ان کے لواحقین میں تشویش پائی جاتی ہے۔ واقعے کی تحقیقات جاری ہیں۔

ذرائع کے مطابق نجی لیبارٹری کی رپورٹس میں عفیفہ سمیت دو بچیوں کے ایچ آئی وی پازیٹو ہونے کا دعویٰ کیا گیا ہے، تاہم سرکاری اور نجی لیبارٹری کی رپورٹس میں مبینہ تضاد سامنے آیا ہے۔ متاثرہ مریضوں کو مزید تشخیص اور علاج کے لیے ملتان ریفر کر دیا گیا ہے۔

عفیفہ کی والدہ کے مطابق بچی ایک سال سے زائد عرصے سے ٹی ایچ کیو ہسپتال میاں چنوں میں ڈائیلاسز کرا رہی ہے۔ والدہ نے شبہ ظاہر کیا ہے کہ ڈائیلاسز کے دوران بچی میں ایچ آئی وی وائرس منتقل ہوا۔

والدہ کا کہنا ہے کہ عفیفہ کی حالت تشویشناک ہے اور انہوں نے اعلیٰ حکام سے معاملے کا فوری نوٹس لینے اور بچی کے علاج کے لیے اقدامات کی اپیل کی ہے۔

دوسری جانب ایم ایس ٹی ایچ کیو میاں چنوں ڈاکٹر محمد آصف کے مطابق عفیفہ کا 9 ستمبر کو کیا گیا ایچ آئی وی ٹیسٹ منفی آیا تھا۔ ان کے مطابق ڈائیلاسز مشین سے ایچ آئی وی منتقل ہونے کا امکان نہیں، تاہم کسی مریض کو ایچ آئی وی سے متاثرہ شخص کا خون لگنے کی صورت میں وائرس منتقل ہو سکتا ہے۔

ایم ایس کے مطابق ایچ آئی وی کی حتمی تصدیق پی سی آر ٹیسٹ کے بعد ہی ممکن ہوگی۔ ان کا کہنا ہے کہ عفیفہ سمیت مریم اور روبینہ میں بھی ایچ آئی وی کی علامات ظاہر ہوئی ہیں، جبکہ متاثرہ مریضوں کی رپورٹس مزید تشخیص کے لیے ایڈز سنٹر ملتان بھجوا دی گئی ہیں۔

اسسٹنٹ کمشنر کے مطابق معاملے کی تحقیقات جاری ہیں اور تحقیقات مکمل ہونے کے بعد حقائق سامنے آنے پر مزید کارروائی کے حوالے سے فیصلہ کیا جائے گا۔

اہم وضاحت: دستیاب رپورٹ میں ایچ آئی وی کی حتمی تصدیق نہیں ہوئی؛ سرکاری مؤقف کے مطابق پی سی آر ٹیسٹ کے نتائج کے بعد ہی حتمی صورتحال واضح ہوگی

You Might Also Like

Leave A Comment

جڑے رہیے

نیوز لیٹر

کیلنڈر

اشتہار