رسول پور سے تقریب کے بعد واپس آنے والی فیملی کو واں چھتہ کے قریب گن پوائنٹ پر روک لیا گیا، شوہر اور بچوں پر پستول تان کر خاتون کو درختوں کے پیچھے لے جایا گیا، مقدمہ درج، پولیس کی ملزمان کی گرفتاری کے لیے کارروائیاں تیز، آئی جی پنجاب کا واقعے پر اعلیٰ افسران سے اظہارِ ناراضگی

ملتان (کرائم رپورٹر روزنامہ ایشیاء اردو) ملتان میں شاہ شمس کے علاقے کے قریب ایک فیملی کے ساتھ مبینہ ڈکیتی اور خاتون سے زیادتی کے سنگین واقعے نے شہریوں میں خوف و ہراس پیدا کر دیا۔ رسول پور سے سالگرہ کی تقریب میں شرکت کے بعد واپس آنے والے میاں بیوی اور ان کے دو معصوم بچوں کو مبینہ طور پر تین مسلح موٹرسائیکل سوار ڈاکوؤں نے گن پوائنٹ پر روک کر یرغمال بنا لیا۔ ملزمان نے اسلحے کے زور پر اہلِ خانہ کو بے بس کیے رکھا اور مقدمے کے متن کے مطابق ایک ملزم خاتون کو درختوں کے پیچھے لے گیا، جہاں اسے مبینہ زیادتی کا نشانہ بنایا گیا۔ واقعے کی اطلاع پر پولیس حکام حرکت میں آگئے، جبکہ آئی جی پنجاب عبدالکریم نے سرِعام سڑک کے قریب پیش آنے والے اس افسوسناک واقعے پر اعلیٰ افسران سے اظہارِ ناراضگی کیا ہے۔

مقدمے کے متن کے مطابق طاہر کالونی ملتان کا رہائشی سعد اپنی اہلیہ اور دو بچوں کے ہمراہ رسول پور میں سالگرہ کی تقریب میں شرکت کے لیے گیا تھا۔ رات تقریباً دس بجے کے بعد جب فیملی واپس ملتان آرہی تھی تو واں چھتہ کے علاقے میں موٹروے پل کے قریب تین موٹرسائیکل سوار مسلح افراد نے انہیں روک لیا۔ ملزمان کے پاس پستول تھے اور انہوں نے اسلحے کے زور پر فیملی کو سڑک سے نیچے لے جا کر یرغمال بنا لیا۔

متنِ مقدمہ کے مطابق ایک ملزم نے سعد پر پستول تان لیا، جبکہ دوسرے نے بچوں کو اسلحے کے نشانے پر رکھ کر انہیں خوف زدہ کیے رکھا۔ اسی دوران تیسرے ملزم نے مبینہ طور پر خاتون کو درختوں کے پیچھے لے جا کر زیادتی کا نشانہ بنایا۔ مسلح ملزمان کی موجودگی میں شوہر اور بچے بے بسی کی تصویر بنے رہے۔ واقعے کی نوعیت اور بچوں کے سامنے پیش آنے والی مبینہ واردات نے معاملے کو انتہائی سنگین بنا دیا ہے۔

واقعے کے بعد سعد کی مدعیت میں نامعلوم ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا، جبکہ پولیس نے ملزمان کی شناخت اور گرفتاری کے لیے تحقیقات شروع کر دیں۔ پولیس حکام کے مطابق واقعے کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لیا جا رہا ہے اور شواہد کی بنیاد پر ملزمان تک پہنچنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

ترجمان ملتان پولیس کے مطابق تھانہ شاہ شمس کے علاقے میں فیملی سے رابری اور خاتون سے مبینہ زیادتی کے واقعے کی اطلاع ملنے پر سی پی او ملتان پولیس ٹیم کے ہمراہ موقع پر پہنچے اور جائے وقوعہ کا معائنہ کیا۔ سی آر او ٹیم اور کرائم سین یونٹ نے موقع سے شواہد اکٹھے کیے، جبکہ متاثرہ خاتون کا میڈیکل معائنہ بھی مکمل کر لیا گیا ہے۔ طبی معائنے کے دوران حاصل کیے گئے نمونے پنجاب فرانزک سائنس ایجنسی (پی ایف ایس اے) کو بھجوا دیئے گئے ہیں، جن کی رپورٹ کا انتظار ہے۔

پولیس ترجمان کے مطابق ملزمان کی ٹریسنگ اور گرفتاری کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں۔ فرانزک رپورٹ اور دیگر شواہد کی روشنی میں تحقیقات کو آگے بڑھایا جائے گا، جبکہ ملزمان کی گرفتاری کے بعد مزید قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

News Image

دوسری جانب آئی جی پنجاب عبدالکریم نے سڑک کے قریب پیش آنے والے اس سنگین واقعے پر اعلیٰ پولیس افسران سے اظہارِ ناراضگی کیا ہے۔ واقعے نے شاہراہوں اور سفر کے دوران شہریوں، بالخصوص خواتین اور بچوں کے تحفظ کے حوالے سے بھی تشویش پیدا کر دی ہے۔

پولیس کے لیے اب اہم مرحلہ نامعلوم ملزمان کی فوری شناخت، گرفتاری اور واقعے کے تمام پہلوؤں کو شواہد کے ذریعے واضح کرنا ہے۔ فرانزک نتائج اور تفتیش کی پیش رفت سے ہی واقعے کے بارے میں مزید حقائق سامنے آسکیں گے

You Might Also Like

Leave A Comment

جڑے رہیے

نیوز لیٹر

کیلنڈر

اشتہار