نشتر 2 — اربوں کی عمارت، مگر زندگی کے بغیر
تحریر: چوہدری عبدالقیوم
جنوبی پنجاب کے عوام کے لیے نشتر 2 ہسپتال ایک نئی امید کے طور پر تعمیر کیا گیا تھا۔ حکومت نے وعدہ کیا کہ یہ جدید سہولیات سے آراستہ ادارہ نشتر 1 پر بڑھتے ہوئے بوجھ کو کم کرے گا، اور جنوبی پنجاب کے شہریوں کو علاج کے لیے طویل سفر نہیں کرنا پڑے گا۔
لیکن آج، چند سال بعد، وہی امید ایک بے جان عمارت میں تبدیل ہو چکی ہے۔
عمارت تیار، مگر نظام غائب
نشتر 2 کی تعمیر پر اربوں روپے خرچ کیے گئے۔ وسیع وارڈز، جدید مشینری، اور ساٹھ بستروں پر مشتمل آئی سی یو کی سہولت قائم کی گئی۔ مگر افسوس کہ یہ آئی سی یو آج بھی بند پڑا ہے۔
جی ہاں، وہی انتہائی نگہداشت کا یونٹ — جو کسی بھی اسپتال کا سب سے اہم شعبہ ہوتا ہے — ابھی تک غیر فعال ہے۔
جب کسی مریض کی حالت دورانِ علاج بگڑ جاتی ہے تو اُسے پچیس سے تیس کلومیٹر دور نشتر 1 منتقل کر دیا جاتا ہے۔ وہاں پہلے سے درجنوں مریض داخلے کے منتظر ہوتے ہیں۔ نتیجہ وہی نکلتا ہے جو ہمیشہ نکلتا ہے — تاخیر، اذیت، اور بعض اوقات موت۔
مسئلہ مشینوں کا نہیں، انسانوں کا ہے
نشتر 2 کے بند پڑے آئی سی یو کا سبب کوئی ٹیکنیکل خرابی نہیں بلکہ عملے کی شدید کمی ہے۔
ہسپتال میں اس وقت انیستھیزیا اسپیشلسٹس کی دس سے بارہ آسامیاں خالی ہیں۔ تربیت یافتہ نرسوں، ٹیکنالوجسٹوں، اور سپورٹ اسٹاف کی قلت الگ۔
مزید حیران کن امر یہ ہے کہ آپریشن تھیٹر اسسٹنٹس کو "جنرل اسٹاف" بنا کر کسی نہ کسی طرح کام چلایا جا رہا ہے۔
یعنی عمارت مکمل، مشینیں موجود، مگر وہ ہاتھ غائب ہیں جن سے یہ نظام چلتا ہے۔
نگرانی یا دکھاوا؟
حکومتی مانیٹرنگ ٹیمیں باقاعدہ دورے کرتی ہیں، رپورٹس بنتی ہیں، تصاویر جاری ہوتی ہیں — لیکن زمینی حقیقت وہی کی وہی۔
انتظامیہ کہتی ہے فنڈز نہیں، بیوروکریسی کہتی ہے منظوری باقی ہے، اور حکومت مطمئن ہے کہ سب اچھا ہے۔
یہ وہ دائرہ ہے جس میں مریضوں کی زندگیاں قید ہیں، اور کسی کو جواب دہی کا احساس نہیں۔
ذمہ داری کس کی ہے؟
اگر نشتر 2 کا مقصد نشتر 1 کا بوجھ کم کرنا تھا تو آج مریض کیوں 30 کلومیٹر دور تکلیف اٹھا رہے ہیں؟
اگر اربوں روپے کی عمارت تیار ہے تو وہاں زندگی کا نظام کیوں نہیں چل رہا؟
یہ سوال صرف حکومت سے نہیں، ہم سب سے ہے۔ کیونکہ جب عوام خاموش رہتی ہے، تو مسائل "پالیسی" کے نام پر دفن ہو جاتے ہیں۔
آواز اٹھانے کا وقت
نشتر 2 صرف ایک ہسپتال نہیں، بلکہ ایک علامت ہے — ہماری ترجیحات، ہماری بے حسی، اور ہمارے نظام کی ناکامی کی علامت۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ اس ایشو کو وقتی شور کے بجائے مسلسل عوامی دباؤ کے ذریعے زندہ رکھا جائے۔
حکومت کو چاہیے کہ انیستھیزیا ڈاکٹروں اور آئی سی یو عملے کی فوری بھرتی کرے، اور اس عمارت کو “یادگار منصوبہ” کے بجائے زندہ ادارہ بنائے۔
ورنہ یہ بھی ایک اور “پراجیکٹ” بن کر رہ جائے گا — کاغذوں میں مکمل، مگر حقیقت میں خالی



Leave A Comment