آرگینک خوراک اور مصنوعات پر تحقیق کرنے والے نجی ادارے کے سربراہ نجم مزاری نے کہا ہے کہ دنیا بھر میں صحتمند خوراک کی مانگ میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے، جس کے نتیجے میں آرگینک زرعی مصنوعات ایک مضبوط متبادل کے طور پر سامنے آئی ہیں۔ پاکستان میں بھی کسان اور صارفین آرگینک زراعت کی طرف متوجہ ہو رہے ہیں۔

ہفتہ کو اپنے بیان میں نجم مزاری نے کہا کہ ماہرین کے مطابق عالمی آرگینک خوراک کی مارکیٹ ہر سال 8 سے 10 فیصد کی شرح سے بڑھ رہی ہے، تاہم پاکستان میں آرگینک زراعت کا حصہ اب بھی کل زرعی پیداوار کا 2 فیصد سے کم ہے، لیکن اس میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ آرگینک زراعت میں کیمیائی کھادوں، زہریلے سپرے اور مصنوعی ادویات کے بجائے قدرتی کھاد، گوبر، فصلوں کی گردش اور حیاتیاتی طریقے استعمال کیے جاتے ہیں، جو زمین کی زرخیزی کو 20 سے 30 فیصد تک بہتر بنا سکتے ہیں اور پانی کی آلودگی میں بھی کمی واقع ہوتی ہے۔

مزاری نے کہا کہ آرگینک سبزیوں اور پھلوں میں زہریلے کیمیکلز 70 فیصد تک کم ہوتے ہیں، جس سے کینسر، الرجی اور معدے کی بیماریوں کے خطرات کم ہو جاتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کے مختلف علاقوں، خصوصاً پنجاب اور خیبر پختونخوا میں کچھ کسان آرگینک گندم، سبزیاں، شہد اور چاول کامیابی سے کاشت کر رہے ہیں اور مقامی مارکیٹ کے ساتھ ساتھ آن لائن پلیٹ فارمز کے ذریعے فروخت بھی کر رہے ہیں۔

نجم مزاری نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ آرگینک زراعت کی طرف راغب ہونے والے کسانوں کے لیے سبسڈی اور تربیتی پروگرام متعارف کرائے جائیں، عوام کو مختلف پلیٹ فارمز کے ذریعے آرگینک خوراک کے فوائد سے آگاہ کیا جائے، دیہی علاقوں میں جدید آرگینک کاشت کے طریقوں پر ورکشاپس کرائی جائیں، کسانوں کو براہِ راست صارفین اور آن لائن مارکیٹس سے جوڑا جائے اور زرعی جامعات میں آرگینک زراعت پر تحقیق کو فروغ دیا جائے۔

You Might Also Like

Leave A Comment

جڑے رہیے

نیوز لیٹر

کیلنڈر

اشتہار