حسین کا خطاب
وفاقی وزیر برائے قومی غذائی تحفظ و تحقیق رانا تنویر حسین نے برلن میں منعقدہ گلوبل فورم فار فوڈ اینڈ ایگری کلچر (جی ایف ایف اے)2026 میں پاکستان کی نمائندگی کی، جہاں انہوں نے موسمیاتی تبدیلی اور عالمی سطح پر پانی کی بڑھتی ہوئی قلت کے حوالے سے پاکستان کی ترجیحات کو اجاگر کیا۔ فورم کا موضوع ’’پانی، غذا، ہمارا مستقبل‘‘ تھا۔

رانا تنویر حسین نے اپنے خطاب میں پاکستان کی تاریخی وابستگی کو وادیٔ سندھ کی تہذیب سے جوڑتے ہوئے کہا کہ پاکستان کو آج بے شمار موسمیاتی چیلنجز کا سامنا ہے، جن میں بار بار آنے والے سیلاب، طویل خشک سالی، اور شدید گرمی کی لہریں شامل ہیں، جن کا زرعی پیداوار، دیہی روزگار، اور غذائی تحفظ پر گہرا اثر پڑا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کا غذائی نظام دریائے سندھ کے طاس پر انحصار کرتا ہے، جو 24 کروڑ سے زائد افراد کی زراعت، صنعت اور ماحولیاتی ضروریات کو پورا کرتا ہے۔ حالیہ تباہ کن سیلابوں اور خشک سالی کو اس نظام کی کمزوری کی مثال قرار دیتے ہوئے رانا تنویر حسین نے پانی کی لچک کو ضروری قرار دیا۔

وفاقی وزیر نے پاکستان کی پالیسی سمت کو واضح کرتے ہوئے کہا کہ حکومت زرعی شعبے میں پانی کی پیداواریت بڑھانے کے لیے مؤثر آبپاشی، کلائمٹ اسمارٹ طریقے اور خشک سالی برداشت کرنے والے بیجوں کے فروغ پر کام کر رہی ہے۔ انہوں نے ماحولیاتی نظام کے تحفظ کی اہمیت پر بھی زور دیا، جس میں مٹی کی بہتری، واٹرشیڈ بحالی، ایگرو فاریسٹری اور زیرِ زمین پانی کی ری چارج شامل ہیں۔

 

You Might Also Like

Leave A Comment

جڑے رہیے

نیوز لیٹر

کیلنڈر

اشتہار