پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے اعلیٰ حکام کی تہران میں ایرانی قیادت سے ملاقات متوقع
تہران: برطانوی خبر رساں ایجنسی کے مطابق پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے اعلیٰ حکام کی ایرانی قیادت سے تہران میں ملاقات متوقع ہے، جس میں علاقائی تعاون، سکیورٹی صورتحال اور خطے میں بڑھتی کشیدگی پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔
رپورٹ کے مطابق سعودی عرب، ترکیہ اور پاکستان کے اعلیٰ حکام ایرانی عہدیداروں کے ساتھ مشترکہ اجلاس میں شرکت کریں گے۔ سعودی عرب کی نمائندگی وزیر دفاع شہزادہ خالد بن سلمان کریں گے، جبکہ ترکیہ کے انٹیلی جنس ادارے کے سربراہ ابراہیم کالن کی شرکت بھی متوقع ہے۔
ایرانی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے نائب سیکرٹری علی باقری نے بھی پاکستانی فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، سعودی وزیر دفاع خالد بن سلمان اور ترک انٹیلی جنس ادارے کے سربراہ ابراہیم کالن کے دورۂ ایران کی تصدیق کی ہے۔
علی باقری کے مطابق پاکستان، سعودی عرب، ترکیہ اور ایران خطے کی سلامتی کے لیے مشترکہ تعاون کرسکتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر نے ایرانی عہدیدار محسن رضائی سے ملاقات کے دوران مجوزہ دورے سے متعلق آگاہ کیا تھا۔
رپورٹ کے مطابق یہ ملاقات سعودی عرب کو یمن کے ایران نواز حوثی گروپ کی جانب سے بڑھتے ہوئے حملوں کے تناظر میں اہمیت رکھتی ہے۔ مجوزہ رابطے کو چاروں ممالک کے درمیان علاقائی سلامتی اور سفارتی تعاون کے حوالے سے اہم پیش رفت قرار دیا جارہا ہے۔
قطر کا وفد بھی تہران پہنچ گیا
دوسری جانب قطر کے مصالحت کاروں کا وفد بھی تہران پہنچ گیا ہے۔ قطری نشریاتی ادارے کے مطابق وفد ایرانی حکام کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مطالبات سے آگاہ کرے گا۔
رپورٹ کے مطابق ایران اپنے منجمد اثاثوں کی بحالی اور بحری ناکہ بندی ختم کرنے کے مطالبات پر زور دے رہا ہے۔
مشترکہ دفاعی معاہدے کے تناظر میں اہم رابطہ
خبر کے مطابق میثاقِ مکہ میں شامل ممالک کے وزرائے خارجہ نے رواں ماہ کے آغاز میں ریاض میں ہنگامی اجلاس منعقد کیا تھا، جس میں سعودی عرب میں فوجی دستوں اور دفاعی صلاحیتوں کی تیز رفتار تعیناتی یقینی بنانے پر اتفاق کیا گیا تھا۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ امریکا اور اسرائیل کی ایران کے خلاف کارروائیوں کے باعث خطے میں عدم استحکام بڑھا ہے، جبکہ سعودی عرب کو بھی سکیورٹی دباؤ کا سامنا ہے۔
خبر کے مطابق پاکستان، ترکیہ اور سعودی عرب نے اگست میں مشترکہ دفاعی معاہدے پر دستخط کیے تھے، جس کے تحت کسی ایک رکن پر مسلح حملے کو تمام ارکان پر حملہ تصور کیا جائے گا۔
_2026_10_26_11_29_09_10106295.jpg)


Leave A Comment