264 سے 384 روپے تک پٹرول کی قیمت کہاں جا رہی ہے؟
تحریر: محمد طارق خان
پٹرول پمپ پر لگا ہوا ریٹ اب محض گاڑی چلانے والوں کا مسئلہ نہیں رہا۔ موٹر سائیکل پر دفتر جانے والا ملازم ہو، بچوں کو سکول پہنچانے والی وین، کھیت میں ٹریکٹر چلانے والا کسان، سامان ایک شہر سے دوسرے شہر پہنچانے والا ٹرک ڈرائیور یا محدود آمدن میں گھر چلانے والا عام شہری، پٹرول اور ڈیزل کی بڑھتی قیمت بالآخر سب کے بجٹ تک پہنچتی ہے۔
16 ستمبر 2026 کو پاکستان میں پٹرول مزید 4.10 روپے فی لیٹر مہنگا کرکے 384.34 روپے فی لیٹر کردیا گیا، جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل 6.41 روپے اضافے کے بعد 415.83 روپے فی لیٹر ہوگیا۔ ایک دن پہلے 15 ستمبر کو پٹرول 4.42 روپے مہنگا ہوکر 380.24 روپے ہوا تھا۔ یعنی قیمتوں میں تبدیلی اب اتنی تیزی سے ہورہی ہے کہ صارف کو تقریباً ہر روز نئے ریٹ کا سامنا ہے۔
ایک سال میں پٹرول کا سفر: 264 سے 458 اور پھر 384 روپے
اس صورتحال کو صحیح طور پر سمجھنے کے لیے صرف آج کا اضافہ دیکھنا کافی نہیں۔ ایک سال پیچھے جائیں تو 16 ستمبر 2025 کو پٹرول 264.61 روپے فی لیٹر تھا۔ آج 16 ستمبر 2026 کو یہی پٹرول 384.34 روپے ہے۔ یوں ایک سال میں فرق 119.73 روپے فی لیٹر بنتا ہے، یعنی تقریباً 45.25 فیصد اضافہ۔
ہائی اسپیڈ ڈیزل کی صورتحال اس سے بھی زیادہ نمایاں ہے۔ 16 ستمبر 2025 کو ڈیزل 272.77 روپے فی لیٹر تھا، جو اب 415.83 روپے تک پہنچ چکا ہے۔ یعنی ایک سال میں 143.06 روپے فی لیٹر یا تقریباً 52.4 فیصد اضافہ۔
لیکن یہ سفر سیدھی لکیر میں نہیں ہوا۔ یکم جنوری 2026 کو پٹرول 253.17 روپے تک آگیا تھا۔ 28 فروری کے قریب قیمت 266.17 روپے تھی۔ پھر مشرقِ وسطیٰ کی جنگ اور عالمی تیل کی رسد میں خلل نے صورتحال یکسر تبدیل کردی۔
مارچ میں قیمت تیزی سے اوپر گئی اور 3 اپریل 2026 کو پٹرول 458.41 روپے فی لیٹر کی غیر معمولی بلند سطح تک پہنچ گیا۔ بعد میں حالات میں کچھ بہتری آئی۔ 9 مئی کو قیمت 414.78 روپے، 23 مئی کو 403.78 روپے اور 13 جون کو 373.78 روپے رہی۔ پھر 19 جون کو 74 روپے کی بڑی کمی کے بعد پٹرول 299.78 روپے فی لیٹر ہوگیا۔
لیکن یہ ریلیف زیادہ دیر برقرار نہ رہ سکا۔ جولائی اور اگست میں قیمت دوبارہ اوپر جانے لگی اور ستمبر میں اضافے کی رفتار خاصی تیز ہوگئی۔
ستمبر کے صرف 16 دن — 41.55 روپے اضافہ
یکم ستمبر 2026 کو پٹرول 342.79 روپے فی لیٹر تھا۔ 8 ستمبر کو یہ 358.77 روپے، 11 ستمبر کو 370.80 روپے، 12 ستمبر کو 375.82 روپے، 15 ستمبر کو 380.24 روپے اور 16 ستمبر کو 384.34 روپے فی لیٹر ہوگیا۔
اس طرح صرف ستمبر کے پہلے 16 دنوں میں پٹرول 41.55 روپے فی لیٹر مہنگا ہوا، جو تقریباً 12.1 فیصد اضافہ بنتا ہے۔
آخر پٹرول اتنی تیزی سے کیوں مہنگا ہورہا ہے؟
اس سوال کا جواب صرف پاکستان کے اندر تلاش نہیں کیا جاسکتا۔ موجودہ بحران کا ایک بڑا تعلق مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ اور عالمی توانائی کی رسد سے ہے۔
دنیا کے تیل کی تجارت میں آبنائے ہرمز انتہائی اہم بحری راستہ ہے۔ خلیجی ممالک سے نکلنے والے تیل اور مائع قدرتی گیس کا بڑا حصہ اسی علاقے سے عالمی منڈیوں تک پہنچتا ہے۔ جنگ، حملوں اور جہاز رانی کے خطرات بڑھنے سے تیل کی ترسیل، انشورنس اور مال برداری کی لاگت متاثر ہوتی ہے۔
سعودی عرب کی تقریباً 1,200 کلومیٹر طویل ایسٹ ویسٹ آئل پائپ لائن آبنائے ہرمز کے متبادل راستے کے طور پر اہم ہے۔ یہ مشرقی سعودی عرب سے تیل بحیرۂ احمر کی طرف منتقل کرتی ہے۔ اس پائپ لائن میں رکاوٹ یا اس کی بندش کی خبر بھی عالمی تیل مارکیٹ کے لیے اہم بن جاتی ہے۔
16 ستمبر کی صبح عالمی منڈی میں برینٹ خام تیل تقریباً 107.82 ڈالر فی بیرل کے قریب تھا۔ امریکی خام تیل کے ذخائر میں اضافے سے قیمت میں کچھ کمی ضرور آئی، لیکن مشرقِ وسطیٰ میں سپلائی کے خطرات بدستور موجود ہیں۔
پاکستان میں روزانہ قیمت کیوں بدل رہی ہے؟
موجودہ غیر معمولی عالمی صورتحال میں پاکستان میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا جائزہ زیادہ تیزی سے لیا جارہا ہے۔ قیمت طے کرتے وقت صرف خام تیل نہیں دیکھا جاتا بلکہ بین الاقوامی ریفائنڈ مصنوعات کی قیمت، روپے اور ڈالر کی شرحِ مبادلہ، مال برداری، آئل مارکیٹنگ کمپنیوں اور ڈیلرز کے مارجن اور حکومتی محصولات بھی حتمی قیمت پر اثر انداز ہوتے ہیں۔
اس لیے یہ کہنا درست نہیں کہ پٹرول کی پوری قیمت صرف جنگ یا عالمی خام تیل کی وجہ سے بڑھی ہے۔
384 روپے کے ایک لیٹر میں حکومتی محصولات بھی شامل
موجودہ قیمت میں پٹرولیم لیوی 80 روپے فی لیٹر اور کلائمیٹ سپورٹ لیوی (ماحولیاتی معاونتی محصول) 5 روپے فی لیٹر بھی شامل ہیں۔ اس کے علاوہ کسٹمز ڈیوٹی، آئل مارکیٹنگ کمپنی کا مارجن، ڈیلر مارجن اور دیگر اخراجات بھی قیمت کا حصہ بنتے ہیں۔
یہ نکتہ اس لیے اہم ہے کہ عالمی منڈی میں تیل مہنگا ہونا صرف ایک عنصر ہے۔ پاکستان میں صارف جو آخری قیمت ادا کرتا ہے، اس میں بین الاقوامی قیمت کے ساتھ حکومتی ٹیکس اور لیویز بھی نمایاں کردار ادا کرتے ہیں۔
شرحِ سود بڑھی نہیں، مگر دباؤ بڑھ گیا ہے
موجودہ معاشی صورتحال میں ایک بات واضح کرنا ضروری ہے۔ پاکستان میں پالیسی شرحِ سود ابھی بڑھائی نہیں گئی۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے 14 ستمبر 2026 کو پالیسی ریٹ 11.5 فیصد پر برقرار رکھا۔
تاہم اگست میں سالانہ مہنگائی 11.1 فیصد تک پہنچ گئی، جو جولائی میں 9.2 فیصد تھی۔ عالمی توانائی کی بلند قیمتیں، مشرقِ وسطیٰ کی کشیدگی اور سپلائی چین میں رکاوٹیں مہنگائی کے لیے مزید خطرہ بن سکتی ہیں۔
یہاں پٹرول، مہنگائی اور شرحِ سود کا تعلق سمجھنا ضروری ہے۔ پٹرول اور ڈیزل مہنگے ہوں تو ٹرانسپورٹ کی لاگت بڑھتی ہے۔ ٹرانسپورٹ مہنگی ہونے سے سبزی، پھل، آٹا، دودھ، تعمیراتی سامان اور دوسری اشیا کی ترسیل مہنگی ہوتی ہے۔ پیداواری لاگت بڑھنے سے قیمتیں اوپر جاتی ہیں۔ مہنگائی برقرار رہے تو مرکزی بینک کے لیے شرحِ سود میں بڑی کمی کرنا مشکل ہوجاتا ہے۔
یوں مہنگا تیل صرف پٹرول پمپ تک محدود نہیں رہتا بلکہ پوری معیشت میں گردش کرتا ہے۔
عام آدمی کی جیب پر کتنا بوجھ؟
ایک سادہ حساب صورتحال مزید واضح کردیتا ہے۔ اگر ایک موٹر سائیکل سوار ماہانہ 30 لیٹر پٹرول استعمال کرتا ہے تو ایک سال پہلے کے مقابلے میں 119.73 روپے فی لیٹر اضافے کی وجہ سے اس کا خرچ تقریباً 3,592 روپے ماہانہ زیادہ بنتا ہے۔
اگر کسی گھر یا چھوٹے کاروبار کا استعمال 100 لیٹر ماہانہ ہے تو یہی فرق تقریباً 11,973 روپے ماہانہ اضافی بوجھ بن جاتا ہے۔
ڈیزل کا معاملہ اس سے بھی وسیع ہے۔ پاکستان میں مال بردار گاڑیاں، بسیں، زرعی مشینری اور بہت سی تجارتی سرگرمیاں ڈیزل پر منحصر ہیں۔ ڈیزل مہنگا ہونے کا خرچ بالآخر صارف تک منتقل ہوسکتا ہے۔
کیا آگے مزید اضافہ ہوسکتا ہے؟
اس کا قطعی جواب دینا ممکن نہیں کیونکہ قیمت کا انحصار جنگ، عالمی تیل کی سپلائی، آبنائے ہرمز اور بحیرۂ احمر کی صورتحال، عالمی خام تیل اور ریفائنڈ مصنوعات کی قیمتوں اور پاکستان میں شرحِ مبادلہ سمیت کئی عوامل پر ہے۔
اگر مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کم ہوتی ہے، تیل کی ترسیل معمول پر آتی ہے اور عالمی قیمتیں نیچے جاتی ہیں تو پاکستان میں بھی ریلیف کی گنجائش پیدا ہوسکتی ہے۔ اس کے برعکس جنگ پھیلنے یا تیل کی رسد مزید متاثر ہونے کی صورت میں دباؤ دوبارہ بڑھ سکتا ہے۔
اصل سوال چار روپے کا نہیں
آج بحث صرف یہ نہیں ہونی چاہیے کہ پٹرول مزید 4.10 روپے مہنگا ہوگیا۔ بڑی تصویر یہ ہے کہ 16 ستمبر 2025 کے 264.61 روپے سے 16 ستمبر 2026 کے 384.34 روپے تک پہنچتے پہنچتے پٹرول تقریباً 45 فیصد مہنگا ہوچکا ہے۔
اسی ایک سال میں پاکستانی صارف 253 روپے کا پٹرول بھی دیکھ چکا ہے اور 458 روپے سے زیادہ کا بھی۔ یہ غیر معمولی اتار چڑھاؤ صرف پٹرول پمپ کی کہانی نہیں بلکہ پاکستان کی مہنگائی، ٹرانسپورٹ، زراعت، صنعت، کاروبار اور گھریلو بجٹ کی کہانی ہے۔
اگر عالمی جنگی کشیدگی اور توانائی کی رسد کا بحران طویل ہوگیا تو اصل مسئلہ یہ نہیں ہوگا کہ اگلے نوٹیفکیشن میں پٹرول تین، چار یا پانچ روپے بڑھتا ہے۔
اصل سوال یہ ہوگا کہ 384 روپے فی لیٹر کا پٹرول ایک عام پاکستانی خاندان کے بجٹ، کاروبار اور ملکی معیشت کو کہاں لے کر جائے گا؟



Leave A Comment