وزیراعظم میاں محمد شہباز شریف نے قومی اسمبلی کے تاریخی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے 'اسلام آباد مفاہمتی یادداشت' (Islamabad MoU) کی پسِ پردہ تزویراتی تفصیلات، جنگ بندی کے عالمی معاشی اثرات اور اس عظیم امن مشن میں کلیدی کردار ادا کرنے والی ملکی و بین الاقوامی شخصیات کے ناموں کا باقاعدہ اعلان کیا ہے۔وزیراعظم نے واضح کیا کہ یہ تاریخی سمجھوتہ کسی ایک فرد کا نہیں بلکہ انتھک محنت، استقامت اور غیر متزلزل قومی عزم کا نتیجہ ہے جس نے دنیا بھر میں پاکستان کے تزویراتی وقار کو چار چاند لگا دیے ہیں۔وزیراعظم شہباز شریف کے تفصیلی خطاب کے اہم اور تزویراتی نکات درج ذیل ہیں:امن مشن کے ہیروز اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کے کلیدی کردار کا اعترافوزیراعظم نے امن معاہدے کے عظیم مقصد کے لیے شب و روز محنت کرنے والے ملکی قیادت کے ستونوں کو زبردست خراجِ تحسین پیش کیا:فیلڈ مارشل سید عاصم منیر: وزیراعظم نے ایوان کو بتایا کہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے اسلام آباد سمجھوتے کو حتمی شکل دلانے اور تعطل کو توڑنے میں سب سے کلیدی تزویراتی کردار ادا کیا ہے۔ انہوں نے اس عظیم ترین مقصد کے حصول کے لیے دن رات کام کیا۔سفارتی و انتظامی ٹیم: نائب وزیراعظم و وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار اور وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی کی انتھک سفارتی کوششوں اور تزویراتی کردار کو بھی وزیراعظم نے خصوصی طور پر سراہا۔ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے رابطہ اور دورۂ پاکستان کی دعوتوزیراعظم نے قومی اسمبلی کو گزشتہ روز ایرانی صدر سے ہونے والی انتہائی اہم ٹیلیفونک گفتگو کے احوال سے آگاہ کیا:"میری گزشتہ روز ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے تفصیلی گفتگو ہوئی ہے۔ صدر پزشکیان نے اس تاریخی ثالثی اور پاکستان کے بھرپور تعاون پر اپنی اور پوری ایرانی قوم کی طرف سے پاکستان کا شکریہ ادا کیا ہے۔ میں نے انہیں جلد از جلد پاکستان کا دورہ کرنے کی باضابطہ دعوت دی ہے اور بتایا ہے کہ 24 کروڑ پاکستانی اپنے بھائی کا والہانہ استقبال کرنے کے لیے تیار ہیں۔ ایرانی صدر نے دعوت قبول کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ خود پاکستان آ کر پاکستانی قوم کا شکریہ ادا کریں گے۔ اس کے علاوہ، پاکستان کا ایک اعلیٰ سطحی وفد شہید آیت اللہ خامنہ ای کے جنازے میں شرکت کے لیے تزویراتی طور پر روانہ ہوگا۔"جنگ بندی کے معاشی ثمرات: تیل کی قیمتوں میں بڑی کمی اور 128 ارب کی سبسڈیوزیراعظم نے واضح کیا کہ مشرقِ وسطیٰ میں تین ماہ قبل چھڑنے والی جنگ کے باعث عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں آسمان پر پہنچ گئی تھیں جس سے ملک میں مہنگائی کا دباؤ بڑھا، تاہم اب اس امن معاہدے اور جنگ بندی کے نتیجے میں خطے میں معاشی خوشحالی کا دور شروع ہو رہا ہے:عالمی مارکیٹ کا بحران اور اثراتحکومتِ پاکستان کے تزویراتی اقداماتموجودہ ریلیف اور صورتحالجنگ کے دوران پٹرولیم بحران: 3 ماہ قبل جب خطے میں جنگ چھڑی تو تیل کی قیمتوں میں انتہائی تیزی آئی جس سے مہنگائی بڑھی۔128 ارب روپے کی سبسڈی: عوام کو مہنگائی کے شدید اثرات سے بچانے کے لیے حکومت نے اپنے محدود وسائل سے 128 ارب روپے کی بھاری تزویراتی سبسڈی دی۔تیزی سے گرتی قیمتیں: جنگ بندی کے کامیاب سمجھوتے کے بعد اب عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں تیزی سے نیچے آ چکی ہیں۔وزیراعظم نے اعلان کیا کہ آج تیل کی ہفتہ وار قیمتوں کا نیا تعین ہوگا اور انہیں کامل یقین ہے کہ اس سمجھوتے کے براہِ راست ثمر کے طور پر پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں خاطر خواہ اور تاریخی کمی واقع ہوگی۔ اس موقع پر انہوں نے وفاق کو وسائل فراہم کرنے پر تمام صوبوں کا خصوصی شکریہ بھی ادا کیا۔عالمی دوست ممالک کا تزویراتی تعاونوزیراعظم نے عالمی سطح پر پاکستان کے اس امن عمل اور ثالثی کا ساتھ دینے والے برادر اور دوست ممالک کا تہہ دل سے شکریہ ادا کیا، جنہوں نے اس مشن کو کامیاب بنانے میں بھرپور تزویراتی کردار ادا کیا:چین (China)سعودی عرب (Saudi Arabia)قطر (Qatar)ترکیہ (Türkiye)مصر (Egypt)وزیراعظم شہباز شریف نے اپنے خطاب کا اختتام ان الفاظ پر کیا کہ پاکستان کو آج جو عظیم بین الاقوامی مرتبہ اور سفارتی عروج ملا ہے، یہ قوموں کو صدیوں میں نصیب ہوتا ہے۔ انہوں نے اس عظیم کامیابی پر پاکستان کے 24 کروڑ عوام کو دل کی گہرائیوں سے مبارکباد پیش کی اور سیاسی اختلافات سے بالاتر ہو کر قومی وحدت اور متفقہ پارلیمانی قرارداد لانے پر زور دیا۔

You Might Also Like

Leave A Comment

جڑے رہیے

نیوز لیٹر

کیلنڈر

اشتہار