اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ وہ امریکا اور ایران کے درمیان براہ راست مذاکرات کے دوسرے دور اور خطے میں مستقل امن کے حوالے سے پرامید ہیں۔

ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ پاکستان کو عالمی سطح پر ایک ایماندار ثالث کے طور پر تسلیم کیا جا رہا ہے اور یہ ملک کے لیے ایک اہم اور فخر کا لمحہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ امن کے قیام کے لیے صبر، حکمت اور مشکل فیصلے کرنے کی صلاحیت ضروری ہوتی ہے۔

وزیراعظم نے بتایا کہ پاکستان مسلسل کوشش کر رہا ہے کہ اسلام آباد میں مذاکرات کا ایک اور دور منعقد ہو تاکہ دیرپا امن کی راہ ہموار ہو سکے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی سیاسی اور فوجی قیادت کی مشترکہ کوششوں سے ملک کی عالمی ساکھ بہتر ہوئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایران، امریکا اور خلیجی ممالک پاکستان پر اعتماد کرتے ہیں، جبکہ پاکستان کی جغرافیائی اہمیت بھی اس عمل میں اہم کردار ادا کر رہی ہے۔

وزیراعظم نے مذاکرات میں فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ ان کی خدمات قابلِ قدر ہیں۔

علاقائی صورتحال پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان دہشت گردی کی نئی لہر کا سامنا کر رہا ہے، اور اس کے خلاف کارروائیاں ناگزیر ہیں۔ انہوں نے افغانستان پر زور دیا کہ وہ اپنی سرزمین دہشت گرد گروہوں کے استعمال سے روکے تاکہ خطے میں امن قائم ہو سکے۔

وزیراعظم نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان دہشت گردی کے خاتمے کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھے گا۔

You Might Also Like

Leave A Comment

جڑے رہیے

نیوز لیٹر

کیلنڈر

اشتہار