بہاولپور کو 'کاٹن ویلی' بنانے کے لیے 2 ارب روپے کے منصوبے کا آغاز، کپاس کے کاشتکاروں کے لیے بھاری سبسڈیز کا اعلان
ملتان: سیکرٹری زراعت پنجاب افتخار علی سہو نے ملتان میں گندم اور کپاس کی صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے ایک اہم اجلاس کی صدارت کی ہے۔ اجلاس میں فیلڈ رپورٹس کی بنیاد پر بتایا گیا کہ صوبے میں گندم کی موجودہ صورتحال انتہائی تسلی بخش ہے اور رواں سیزن کے دوران 22.5 ملین میٹرک ٹن سے زائد گندم کی پیداوار متوقع ہے۔ سیکرٹری زراعت نے ہدایت کی کہ حالیہ موسمی حالات کے پیشِ نظر کاشتکاروں کو گندم کی کٹائی، گہائی اور ذخیرہ اندوزی کے حوالے سے بروقت تکنیکی رہنمائی فراہم کی جائے۔
کپاس کی کاشت کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے افتخار علی سہو نے بتایا کہ پنجاب میں قریباً 35 لاکھ ایکڑ رقبہ پر کپاس کاشت کی جائے گی۔ انہوں نے افسران کو ہدف دیا کہ 31 مارچ تک کپاس کی اگیتی کاشت کا عمل ہر صورت مکمل کیا جائے۔ بین الاقوامی منظرنامے کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ عالمی مارکیٹ میں کپاس کی قیمتوں میں استحکام اور اضافے کے روشن امکانات موجود ہیں، جس کا براہِ راست فائدہ پاکستانی کسان کو پہنچے گا۔
اجلاس میں بہاولپور ڈویژن کو 'کاٹن ویلی' بنانے کے لیے 2 ارب روپے کے بڑے منصوبے کی تفصیلات بھی فراہم کی گئیں۔ اس منصوبے کے تحت جدید زرعی آلات پر بھاری سبسڈیز دی جا رہی ہیں، جن میں چیزل پلو پر 1 لاکھ 20 ہزار روپے، کاٹن ماڈل فارمز کے لیے 50 ہزار روپے اور پاور سپرئیرز کے لیے 25 ہزار روپے فی یونٹ مالی امداد شامل ہے۔ سیکرٹری زراعت نے زور دیا کہ کپاس کی موسمی کاشت کے لیے بہترین حکمتِ عملی اپنائی جائے تاکہ ملکی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھنے والی اس فصل سے زیادہ سے زیادہ منافع حاصل کیا جا سکے۔



Leave A Comment