افتخار علی سہو نے کہا ہے کہ صوبے میں 7 لاکھ ایکڑ رقبے پر کپاس کی اگیتی کاشت کرائی جائے گی اور اس ہدف کے حصول کے لیے تمام انتظامات مکمل کر لیے گئے ہیں۔

ملتان میں ان کی زیر صدارت ایک اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں کپاس کی اگیتی کاشت کے ایکشن پلان کو حتمی شکل دی گئی۔ اجلاس میں بتایا گیا کہ ملتان، ڈی جی خان، فیصل آباد اور ساہیوال ڈویژنز میں اگیتی کاشت پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔ کاشتکاروں کی رجسٹریشن مکمل کر لی گئی ہے اور انہیں منظور شدہ اقسام کے تصدیق شدہ بیج کے استعمال سے متعلق رہنمائی فراہم کی جا رہی ہے۔بہاولپور ڈویژن میں صرف موسمی کپاس کی کاشت کی جائے گی اور اسے کاٹن ویلی بنانے کے لیے تقریباً 2 ارب روپے کی لاگت سے منصوبے پر عملدرآمد جاری ہے۔اجلاس میں گندم کی موجودہ صورتحال کا بھی جائزہ لیا گیا۔ سیکرٹری زراعت نے بتایا کہ غیر جانبدار ذرائع نے 1 کروڑ 65 لاکھ ایکڑ سے زائد رقبے پر گندم کی کاشت کی تصدیق کی ہے۔ فیلڈ رپورٹس کے مطابق فصل بہترین حالت میں ہے اور اس نازک مرحلے پر فیلڈ فارمیشنز کو خصوصی ہدایات جاری کی گئی ہیں۔

قبل ازیں افتخار علی سہو نے ماڈل ایگریکلچر مال ملتان کا دورہ بھی کیا اور آپریشنل سرگرمیوں کا جائزہ لیا۔

You Might Also Like

Leave A Comment

جڑے رہیے

نیوز لیٹر

کیلنڈر

اشتہار