لاہور: وزیر تعلیم پنجاب رانا سکندر حیات کے سرکاری اسکولوں کے بعض اساتذہ سے متعلق دیے گئے بیان پر تنازع کھڑا ہو گیا ہے۔ سوشل میڈیا پر متعدد سرکاری اساتذہ نے وزیر تعلیم کے ریمارکس پر شدید ردعمل دیتے ہوئے ان سے معافی کا مطالبہ کیا، جبکہ وزیر تعلیم نے بعد ازاں اپنے بیان کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ان کی تنقید تمام اساتذہ پر نہیں بلکہ صرف بدعنوان عناصر پر تھی۔

جنوبی پنجاب میں اساتذہ کی ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے رانا سکندر حیات نے کہا تھا کہ بعض سرکاری اسکولوں کے اساتذہ ریٹائرمنٹ یا تبادلے کے وقت اسکولوں سے پنکھے اور دیگر سرکاری سامان اپنے ساتھ لے جاتے ہیں، جبکہ کچھ افراد نے جعلی انرولمنٹ ظاہر کرکے بھی نظام کو نقصان پہنچایا۔

وزیر تعلیم کے اس بیان کے بعد مختلف اضلاع کے سرکاری اساتذہ نے سوشل میڈیا پر سخت ردعمل کا اظہار کیا اور مؤقف اختیار کیا کہ چند افراد کی مبینہ بدعنوانی کو پوری تدریسی برادری سے منسوب کرنا مناسب نہیں۔ اساتذہ نے وزیر تعلیم سے اپنے الفاظ واپس لینے اور معذرت کرنے کا مطالبہ کیا۔

تنقید کے بعد رانا سکندر حیات نے وضاحتی بیان میں کہا کہ ان کی گفتگو کو سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کیا گیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ ان کا اشارہ صرف ان عناصر کی جانب تھا جو بدعنوانی، جعلی انرولمنٹ، نقل مافیا یا دیگر بے ضابطگیوں میں ملوث ہیں، نہ کہ تمام اساتذہ کی طرف۔

وزیر تعلیم نے مزید کہا کہ ان کے پاس بدعنوانی میں ملوث بعض افراد کے خلاف شواہد موجود ہیں اور ضرورت پڑنے پر متعلقہ اساتذہ کے نام بھی سامنے لائے جا سکتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جو افراد برسوں سے اسکول نہیں آئے یا نقل مافیا کا حصہ رہے، ان کا دفاع نہیں کیا جا سکتا، جبکہ دیانتدار اور فرض شناس اساتذہ محکمہ تعلیم کا قابلِ فخر سرمایہ ہیں۔

وزارت تعلیم اور اساتذہ تنظیموں کے درمیان اس معاملے پر جاری بحث کے بعد یہ معاملہ تعلیمی حلقوں میں توجہ کا مرکز بن گیا ہے، جہاں دونوں جانب سے اپنے اپنے مؤقف پر زور دیا جا رہا ہے۔

You Might Also Like

Leave A Comment

جڑے رہیے

نیوز لیٹر

کیلنڈر

اشتہار