تحریر(چوہدری عبدالرحیم شاہد)

جنوبی پنجاب کا سب سے بڑا شہر ملتان جو تقریبا 55لاکھ سے زائد نفوس جن میں آبادی کا 43فیصد شہری اور 57فیصد دیہی علاقوں پر مشتمل ہے ایک طرف موسمیاتی تبدیلیوں، بڑھتی آلودگی اور شہری مسائل سے نبرد آزما ہے تو دوسری جانب غیر معیاری پلاسٹک بیگز کا بے دریغ استعمال شہر کے لیے ایک نئے ماحولیاتی اور صحت کے بحران کی شکل اختیار کرتا جا رہا ہے۔ حکومتی پابندیوں، ضلعی انتظامیہ کے دعوؤں اور ماحولیاتی تحفظ کے قوانین کے باوجود شہر کے حسین آگاہی،، گھنٹہ گھر،  ممتاز آباد، نیو ملتان، شاہ رکن عالم، نیو سبزمنڈی، سمیجہ آباد، گلگشت، بوسن روڈ شجاع آباد ،جلال پور پیروالااور دیگر تجارتی علاقوں میں غیر معیاری اور باریک پلاسٹک بیگز کی فروخت بدستور جاری ہے۔ ۔ جو نہ صرف ماحول بلکہ انسانی صحت کے لیے بھی نقصان دہ قرار دیے جاتے ہیں

News Image

ماہرین ماحولیات کا کہنا ہے کہ مسئلہ صرف ایک تھیلے کا نہیں بلکہ اس سوچ کا ہے جس نے سہولت کو ماحول اور صحت پر ترجیح دے دی ہے۔ چند روپے کی بچت کے لیے استعمال ہونے والے یہ پلاسٹک بیگز زمین، پانی، جانوروں اور انسانوں سب کے لیے خطرہ بنتے جا رہے ہیں۔ملتان میں بارش کے بعد اکثر شہری علاقوں میں پانی جمع ہونے کی شکایات سامنے آتی ہیں۔ترجمان واسا حسن محمودبخاری کے مطابق نکاسی آب کے نظام میں رکاوٹ پیدا کرنے والے بڑے اسباب میں پلاسٹک بیگز بھی شامل ہیں۔ نالوں اور سیوریج لائنوں میں پھنسنے والے یہ تھیلے پانی کے بہاؤ کو متاثر کرتے ہیں اور شہری مسائل میں اضافہ کرتے ہیں۔
لیکن کہانی صرف نالوں تک محدود نہیں۔ نشتر اسپتال کے جگر، معدے، گردے کے طبی ماہر اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر شہر یار کانجو کے مطابق غیر معیاری پلاسٹک میں گرم کھانے اور اشیائے خورونوش رکھنے سے بعض مضر کیمیائی اجزاء خوراک میں منتقل ہو سکتے ہیں۔ اگرچہ عام شہری اس خطرے کو فوری طور پر محسوس نہیں کرتے، لیکن طویل عرصے تک اس کا استعمال مختلف طبی مسائل کا سبب بن سکتا ہے۔۔شاہ رکن عالم کالونی کے رہائشی چودھری طلحہ لطیف  کہتے ہیں کہ ہم جانتے ہیں کہ پلاسٹک نقصان دہ ہے لیکن ہر دکان پر یہی تھیلاملتا ہے، متبادل آسانی سے دستیاب نہیں۔دوسری جانب گلشن مارکیٹ کے دکاندار یونس قریشی سمیت دیگر دکانداروں کا مؤقف بھی اپنی جگہ موجود ہے۔ ان کے مطابق کپڑے یا کاغذ کے تھیلوں کی قیمت زیادہ ہے جبکہ صارفین اضافی رقم ادا کرنے سے گریز کرتے ہیں۔ نتیجتاً سستا پلاسٹک ہی کاروبار کی ضرورت بن جاتا ہے۔
ملتان کے مضافاتی علاقوں اور مویشی منڈیوں میں متعدد بار ایسے واقعات سامنے آئے ہیں جہاں جانور خوراک کے ساتھ پلاسٹک نگلنے کے باعث بیمار ہوئے۔۔ ویٹرنری ڈاکٹرانتظار علی کے مطابق گائے، بھینس اور دیگر جانور کچرے کے ڈھیروں سے خوراک تلاش کرتے وقت پلاسٹک بھی کھا لیتے ہیں، جو ان کے نظام ہاضمہ کو شدید نقصان پہنچاتا ہے۔
محکمہ ماحولیات پنجاب نے کئی برس قبل غیر معیاری اور کم مائیکرون والے پلاسٹک بیگز کی تیاری، فروخت اور استعمال پر پابندی عائد کی تھی۔ اس کے باوجود ملتان میں متعدد مقامات پر یہ بیگز کھلے عام فروخت ہو رہے ہیں۔
ڈپٹی ڈائریکٹر ماحولیات ملتان طاہر عباس نے بتایا کہ ہم وقتاً فوقتاً کارروائیاں کرتے ہیں، جرمانے بھی عائد کیے جاتے ہیں، لیکن شہر میں غیر قانونی طور پر تیار ہونے والے پلاسٹک بیگز کی سپلائی مکمل طور پر روکنا ابھی بھی ایک بڑا چیلنج ہے۔ضلعی انتظامیہ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ غیر معیاری پلاسٹک بیگز کے خلاف کارروائیاں جاری ہیںاور آئندہ دنوں میں مہم مزید تیز کی جائے گی۔انتظامیہ کے مطابق محکمہ ماحولیات، میونسپل کارپوریشن، ویسٹ مینجمنٹ کمپنی اور دیگر ادارے مشترکہ طور پر اس مسئلے پر کام کر رہے ہیں۔
سوالیہ ہے کہ جب قانون موجود ہے تو عملدرآمد کیوں نہیں؟ محکمہ ماحولیات وقتاً فوقتاً کارروائیاں کرتا ہے، جرمانے بھی عائد کیے جاتے ہیں، مگر بازاروں میں غیر معیاری پلاسٹک بیگز کی دستیابی اس بات کا ثبوت ہے کہ مسئلہ ابھی حل نہیں ہوا۔ماہرین کا خیال ہے کہ صرف جرمانے اس بحران کا حل نہیں۔ عوامی شعور، متبادل مصنوعات کی آسان دستیابی، تعلیمی اداروں میں آگاہی مہمات اور مستقل نگرانی کے بغیر صورتحال تبدیل ہونا مشکل ہے۔

روزنامہ ایشیا اردو میں پبلش ارٹیکل
ملتان صوفیوں، باغات اور ثقافتی ورثے کا شہر ہے، لیکن اگر پلاسٹک آلودگی کے خلاف مؤثر اقدامات نہ کیے گئے تو آنے والی نسلوں کو ایک ایسا شہر ملے گا جہاں سہولت کے نام پر ماحول اور صحت دونوں کو نقصان پہنچایا جا چکا ہوگا۔جب ماضی میں پلاسٹک بیگز نہیں ہوتے تھے، تو لوگ خریداری اور سامان لانے کے لیے کپڑے کے تھیلوں، کھجور یا بانس کی ٹوکریوں، مٹی کے برتنوں اور کاغذ کے لفافوں کا استعمال کرتے تھے۔ اس وقت کی سبزیاں اور گوشت عموماً کپڑے کے ٹکڑوں یا پیر کے پتوں میں لپیٹ کر دیے جاتے تھے۔ولایت آباد وہاڑی روڈ کے رہائشی سیدایاز علی شاہ پچھلی پانچ دہائیوں سے بازار میں خریداری کے لیے صرف ہاتھ کی بنی ہوئی کھجور کی ٹوکری (ڈلیا) اور کپڑے کے تھیلے استعمال کرتے ہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ فطری چیزیں ماحول کو آلودہ نہیں کرتی ہیں اور یہ عادت آج کی نسل کے لیے مشعلِ راہ ہے۔آج ضرورت اس بات کی ہے کہ حکومت، تاجر، صنعت کار اور شہری سب مل کر یہ فیصلہ کریں کہ چند لمحوں کی سہولت زیادہ اہم ہے یا ایک محفوظ اور صاف مستقبل۔ کیونکہ پلاسٹک کا ایک تھیلا شاید چند منٹ استعمال ہوتا ہے، لیکن اس کے اثرات کئی دہائیوں تک باقی رہتے ہیں۔

You Might Also Like

Leave A Comment

جڑے رہیے

نیوز لیٹر

کیلنڈر

اشتہار