پاکستان کی سینیٹ نے مفت اور لازمی تعلیم کے ترمیمی بل 2026 کی منظوری دے دی ہے، جس کے تحت سکولوں کے نصاب میں بڑی تبدیلیاں کی گئی ہیں۔ اب ایلیمنٹری سے لے کر ہائی سکول تک تمام طلبا کے لیے کمپیوٹر سائنس اور کوڈنگ سیکھنا لازمی ہوگا۔

اس ترمیم کے ذریعے رائٹ ٹو فری اینڈ کمپلسری ایجوکیشن ایکٹ 2012 میں تبدیلی کی گئی ہے، جس کا مقصد طلبا کو جدید ٹیکنالوجی اور عالمی جاب مارکیٹ کے تقاضوں کے مطابق تیار کرنا ہے۔ حکومت کے مطابق اب صرف بنیادی تعلیم کافی نہیں بلکہ ڈیجیٹل مہارتیں بھی ضروری ہیں۔

اجلاس کے دوران پاکستان نرسنگ اینڈ مڈ وائفری بل بھی منظور کیا گیا، جو ووٹنگ میں برابر ووٹ آنے کے بعد پریذائیڈنگ افسر شیری رحمان کے فیصلہ کن ووٹ سے پاس ہوا۔

مزید برآں، سینیٹ کی 12 قائمہ کمیٹیوں کو اپنی رپورٹس جمع کرانے کے لیے 60 دن کی اضافی مہلت دی گئی۔ اجلاس میں بے روزگاری کے اعداد و شمار بھی پیش کیے گئے، جن کے مطابق ملک میں تقریباً 59 لاکھ افراد بے روزگار ہیں اور شرح 7 فیصد سے زائد ہے۔

وفاقی اردو یونیورسٹی کو درپیش مالی بحران، جامعات میں مستقل وائس چانسلرز کی کمی، اور ارکانِ سینیٹ کی کم حاضری جیسے اہم معاملات بھی زیر بحث آئے۔

اس کے علاوہ موٹرویز سے جولائی 2024 سے مارچ 2026 تک 71 ارب روپے کی آمدن ہونے کا انکشاف بھی کیا گیا، جس میں زیادہ تر رقم ایم ٹیگ سسٹم کے ذریعے وصول کی گئی۔

اجلاس میں مختلف سیاسی امور پر بھی گفتگو ہوئی، جن میں سیاسی قیدیوں کے حقوق اور ملک میں سیاسی ماحول پر تحفظات کا اظہار کیا گیا۔

You Might Also Like

Leave A Comment

جڑے رہیے

نیوز لیٹر

کیلنڈر

اشتہار