شکرقندی کی کاشت سے مالی منفعت، کم سرمایہ والے کسان بھی فائدہ اٹھا سکتے ہیں: محکمہ زراعت
اردو خبر (پروفیشنل انداز):
فیصل آباد: محکمہ زراعت توسیع فیصل آباد کے ڈائریکٹر چوہدری خالد محمود نے کہا ہے کہ موسم گرما میں شکر قندی ایک اہم نقد آور فصل کے طور پر کاشت کی جا سکتی ہے جو بہترین مالی منفعت فراہم کرتی ہے۔
ڈائریکٹر نے بتایا کہ شکر قندی کو تھوڑی کھاد اور کم پانی سے بھی اگایا جا سکتا ہے، اور اس کے بیج کا خرچ نہ ہونے کے برابر ہے کیونکہ فصل کی کاشت بیلیں کاٹ کر لگائی جاتی ہیں۔ کاشتکار منظور شدہ قسم "وائٹ سٹار" کا انتخاب کریں تاکہ بہترین پیداوار حاصل ہو سکے۔
انہوں نے مزید کہا کہ شکر قندی غذائیت سے بھرپور ہے اور اس میں 30 تا 35 فیصد کاربوہائیڈریٹس پائے جاتے ہیں۔ ایسے کاشتکار جن کے پاس وافر سرمایہ نہیں، وہ بھی آسانی سے اس فصل کی کاشت کر سکتے ہیں۔ مناسب ریتلی زمین اور پانی کے نکاس کے انتظام کے ساتھ شکر قندی کی کاشت زیادہ مؤثر ثابت ہوتی ہے۔
شکر قندی کی کاشت کے لیے ایک ایکڑ رقبے پر تقریباً 180 تا 200 کلوگرام بیلیں درکار ہوتی ہیں۔ کاشتکار موسم مارچ کے دوران شکر قندی بو سکتے ہیں، اور اپریل میں بھی کاشت ممکن ہے۔ مزید رہنمائی کے لیے وہ محکمہ زراعت کے فیلڈ اسٹاف سے مشاورت کر سکتے ہیں۔
_2026_03_09_17_06_56_64227443.jpg)


Leave A Comment