اے آئی کی دوڑ میں علمی ورثہ خطرے میں: ٹیک کمپنیاں کتابیں سکین کر کے اصل نسخے ضائع کرنے لگیں
دنیا کی بڑی ٹیک کمپنیاں مصنوعی ذہانت (AI) کو بہتر بنانے کے لیے کتابوں کا وسیع پیمانے پر استعمال کر رہی ہیں، تاہم اس عمل کے دوران صدیوں پرانا علمی اور ثقافتی ورثہ خطرے میں پڑ گیا ہے۔ رپورٹس کے مطابق کمپنیاں بڑی تعداد میں پرانی اور نایاب کتابیں خرید کر انہیں تیز رفتار مشینوں کے ذریعے سکین کرتی ہیں تاکہ ان کا مواد اے آئی ماڈلز کی تربیت میں استعمال کیا جا سکے۔
ذرائع کے مطابق بعض کیسز میں سکیننگ کے بعد کتابوں کے اصل نسخے کو ضائع بھی کر دیا جاتا ہے، جس پر ماہرین نے شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر ان کتابوں میں تاریخی یا نایاب مواد شامل ہو تو یہ انسانی علم کے بڑے نقصان کے مترادف ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اس منصوبے کا آغاز تقریباً دو سال قبل ہوا، جب 2024 میں ایک بڑی اے آئی کمپنی نے ایک فرد کو دنیا بھر سے زیادہ سے زیادہ کتابیں حاصل کرنے کا ہدف دیا۔ ماہرین کے مطابق کمپنیاں خاص طور پر 2022 سے پہلے شائع ہونے والی کتابوں میں دلچسپی رکھتی ہیں، کیونکہ ان میں موجود مواد مکمل طور پر انسانی تحریر پر مبنی ہوتا ہے۔
_2026_07_31_09_55_41_70408139.jpg)
_2026_07_31_09_53_48_96952178.jpg)
_2026_07_31_09_51_47_91195551.jpg)
Leave A Comment