پھر وہی لیہ تونسہ پل
فکر امروز
عزیز میرانی
حال ہی میں محکمہ قومی مواصلات یعنی این ایچ اے کے جی ایم جنوبی پنجاب چانڈیو صاحب کے حوالے سے لیہ تونسہ پل کے دورہ کے بارے میں حوصلہ افزا خبریں سامنے آئی ہیں۔ یہ دورہ سابق ایم پی اے سید رفاقت علی گیلانی کی کوششوں اور دلچسپی کی بدولت ممکن ہوا ہے، جس کے لئے ہم اہالیان لیہ و تونسہ ان کے شکر گزار ہیں۔ ڈان کنسٹرکشن کمپنی کے مالک جروار صاحب اور ان کے ساتھیوں کی اپنی مدد آپ کے اصول کے تحت عارضی رابطہ سڑک کی تعمیر کی کوشسوں نے بھی اقتدار کے ایوانوں تک وسیب کی آواز پہنچانے میں بہت اہم کردار ادا کیا ہے جس کے لئے وہ ہم سب کے شکریہ کے مستحق ہیں۔
************
لیہ میڈیا نے اس وزٹ کے بارے میں بہت اچھی رپورٹنگ کی ہے جو قابل ستائیش ہے۔ یہ مثبت رپورٹنگ جاری رہنی چاہیے۔ لیہ اور تونسہ میڈیا کو آواز اٹھاتے رہنا چاہیے تاکہ یہ نامکمل منصوبہ جلد تکمیل کو پہنچے اور دریائے سندھ کے دونوں طرف کے عوام سکھ کا سانس لے سکیں۔
یہ اس لئے بھی ضروری ہے کہ مقامی میڈیا میں صلاحیت ہے کہ وہ اس علاقائی اہمیت کے حامل تعمیر و ترقی کے منصوبے پر نظر رکھ کر مزید کرپشن کے امکانات کو کم کرنے میں اپنا بھرپور کردار ادا کرسکتا ہے۔
************
اس ضمن میں چند سلگتے ہوئے سوالات یہ ہیں۔
1۔ اولیں بند اتنا کمزور کیوں تھا کہ ایک اوسط درجے کے سیلاب کے سامنے بھی نہ ٹھہر سکا۔ ( گرچہ چانڈیو صاحب کا محسن عدیل صاحب کو انٹرویو دیتے ہوئے گزشتہ سال کے معمول کے فلڈ کو سپر فلڈ سے تعبیر کرنا بند کی ناقص تعمیری معیار پر پردہ ڈالنے کے مترادف ہے،جو ہم کچے کے باسی مقامی لوگوں کے لئے ناقابل فہم ہے)۔
2۔ کروڑوں روپے سے اس ناقص بند کی مرمت کی گئی، وہ مرمت کہیں نظر کیوں نہیں آتی؟ یا وہ مرمت محض علامتی تھی کہ مختصر عرصے میں ہی دوبارہ مرمت کی ضرورت آن پڑی۔
3۔ اپروچ روڈ تعمیر کرنے کی بجائے، ایک بار پھر کروڑوں روپے اسی بند کی مرہم پٹی پر کیوں خرچ کئے جارہے ہیں؟ اور اس بات کی کیا ضمانت ہے کہ یہ مرمت مزید کرپشن کا شاخسانہ بن کر سامنے نہیں آئے گی؟
4۔ بندوں کی دیکھ بھال عموما" محکمہ آبپاشی اور ڈزاسٹر مینیجمنٹ اتھاریٹی کا کام ہوتا ہے جبکہ این ایچ اے کی بنیادی ذمہ داری قومی شاہرات کی تعمیر اور دیکھ بھال ہوتی ہے۔ اس معاملے میں این ایچ اے رابطہ سڑکوں کی تعمیر کو ترجیح دینے کی بجائے بند کی مرمت کرنے کے عشق میں مبتلا کیوں ہوگیا ہے؟
5۔ وزیر مواصلات جن کو ملک بھر میں سیکڑوں میل لمبی سڑکوں کی تعمیر و اصلاح کے فنڈز مہیا ہوتے ہیں وہ لیہ تونسہ کو ملانے والی محض چند کلومیٹر رابطہ سڑک کی تعمیر شروع کرنے کے وعدے اور اعلان سے پس و پیش سے کام کیوں لے رہے ہیں؟
************
وسیب کی وکلاء برادری کو بھی اس بڑے علاقائی منصوبے کی عدم تکمیل اور مجرمانہ تاخیر کے خلاف بھرپور اور توانا آواز اٹھا کر اپنی مٹی کا قرض ادا کرنا چاہیے۔ اس منصوبے کی عدم تکمیل جہاں علاقائی عوام کی تکلیف کا باعث بن گئی ہے وہاں اس پر مقروض قوم کے اربوں روپے ضائع ہورہے پیں۔ مزید یہ کہ وقت کے ساتھ ساتھ تخمینہ لاگت بڑھتا جارہا ہے۔
وسیب کی وکلاء برادری کو یکجا ہوکر اس مجرمانہ غفلت، ناانصافی اور بیش بہا فنڈز کے ضیاع کے خلاف عدالت عالیہ کا دروازہ کھٹکھٹانے میں مزید دیر نہیں کرنی چاہیے۔ دیکھتے ہیں اس عوامی مفاد کے منصوبے میں آواز اٹھانے میں پہل کرنے کا سہرا، لیہ تونسہ کے کس وکیل کے سر بندھتا ہے


_2026_07_24_13_17_24_24515247.png)
Leave A Comment