تحریر نعمان حفیظ

اسلام آباد سے آنے والی خبر بظاہر معمولی ہے، مگر اس کے اثرات ہماری روزمرہ زندگی تک پھیل سکتے ہیں۔ وفاقی کابینہ نے دس روپے کے بینک نوٹ کے مستقبل پر غور کے لیے وزیرِ خزانہ کی سربراہی میں ایک کمیٹی تشکیل دے دی ہے۔ سوال سادہ ہے مگر اہم: دس روپے کا نوٹ برقرار رکھا جائے یا اس کی جگہ سکے کو ترجیح دی جائے؟

News Image

 

ذرائع کے مطابق کمیٹی کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ دس روپے کے بینک نوٹ کی پیداواری لاگت کا تفصیلی جائزہ لے اور اس کا موازنہ دس روپے کے سکے سے کرے۔ مقصد یہ ہے کہ یہ طے کیا جا سکے کہ کون سا ذریعہ زیادہ مؤثر، پائیدار اور کم خرچ ہے۔ کمیٹی اپنی سفارشات وفاقی کابینہ کو پیش کرے گی، جن کی بنیاد پر حتمی فیصلہ ہوگا۔
یہاں اصل سوال صرف لاگت کا نہیں، استعمال کا بھی ہے۔ دس روپے کا نوٹ ہماری جیب میں آتے ہی زیادہ دیر نہیں ٹھہرتا۔ جلدی مڑ جاتا ہے، پھٹ جاتا ہے، گندا ہو جاتا ہے اور پھر بینکوں کو واپس جا کر نظام پر اضافی بوجھ بنتا ہے۔ اس کے برعکس سکہ زیادہ پائیدار ہوتا ہے، برسوں چلتا ہے اور بار بار چھاپنے کی ضرورت نہیں پڑتی۔
مگر دوسری طرف عوامی نفسیات بھی ایک حقیقت ہے۔ پاکستان میں سکے کو اکثر کم تر سمجھا جاتا ہے۔ دکاندار سکے واپس دینے میں ہچکچاتے ہیں، مسافر بسوں میں سکے سنبھالنے کو جھنجھٹ سمجھتے ہیں، اور جیب میں کھنکتے سکے بعض اوقات ناگوار محسوس ہوتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا ہم بطور قوم اس تبدیلی کے لیے تیار ہیں؟
دنیا کے کئی ممالک کم مالیت کے نوٹ ختم کر کے سکے اپنا چکے ہیں، جس سے سرکاری اخراجات میں کمی اور مالی نظم میں بہتری آئی۔ اگر پاکستان بھی اسی سمت جانا چاہتا ہے تو محض فیصلہ کافی نہیں ہوگا؛ عوامی آگاہی، مارکیٹ ایڈجسٹمنٹ اور بتدریج نفاذ ضروری ہوگا تاکہ روزمرہ لین دین متاثر نہ ہو۔
آخر میں بات وہی ہے: یہ 20 روپے کا سوال نہیں، قومی سوچ کا امتحان ہے۔ اگر مقصد بچت، پائیداری اور بہتر مالی نظم ہے تو پھر فیصلے کے ساتھ تیاری بھی ہونی چاہیے۔ دیکھنا یہ ہے کہ کابینہ کی میز پر آنے والی سفارشات کیا رخ اختیار کرتی ہیں—اور ہماری جیبیں کس تبدیلی کی عادت ڈالتی ہیں۔

You Might Also Like

Leave A Comment

جڑے رہیے

نیوز لیٹر

کیلنڈر

اشتہار