تحریر: چوہدری عبدالقیوم

پولیس کا نام سنتے ہی عموماً ذہن میں طاقت، اختیار اور قانون کی عملداری کا تصور ابھرتا ہے۔ مگر اس طاقت کے پیچھے ایک ایسی انسانی مشین چھپی ہوتی ہے جو دن رات، موسم اور حالات کی پروا کیے بغیر عوام کے تحفظ کے لیے سرگرم رہتی ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو چوبیس گھنٹے ڈیوٹی پر ہوتے ہیں — بغیر کسی واضح اوقاتِ کار، آرام یا خاندانی وقت کے۔

ایک عام پولیس اہلکار کی زندگی مسلسل دوڑ دھوپ میں گزرتی ہے۔ کبھی عدالت میں گواہی کے لیے پیش ہونا، کبھی تفتیشی افسر کی حیثیت سے کسی مقدمے کی فائل سنبھالنا، کبھی چالان کی تاخیر پر سرزنش سہنا، اور ساتھ ہی روزمرہ گشت، تھانے کی حاضری اور عوامی شکایات کا بوجھ اٹھانا۔ یہ سب کچھ مل کر پولیس فورس کو جسمانی تھکن، ذہنی دباؤ اور نفسیاتی تھکن کے ایک ایسے دائرے میں قید کر دیتا ہے، جس سے نکلنا آسان نہیں۔

پولیس اہلکاروں کے پاس نہ مقررہ ڈیوٹی ٹائم ہے، نہ آرام کے متعین دن۔ چھٹی لینا اکثر ایک خواب بن جاتا ہے۔ گھروں سے دور، عوام کے مسائل میں الجھے یہ لوگ اکثر خود اپنے مسائل کو بھول جاتے ہیں۔ ان میں سے اکثر ذہنی تناؤ، گھریلو کشیدگی اور عدم توازن کے شکار ہو جاتے ہیں، مگر ان کی نفسیاتی فلاح یا معاونت کے لیے کوئی مؤثر نظام موجود نہیں۔

یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ پولیس فورس سے نظم و نسق، عدالتی معاونت، تفتیش، عوامی خدمت، ٹریفک کنٹرول، اور ہنگامی ردِعمل — سب کی توقع کی جاتی ہے، مگر ان کے لیے وہ سہولیات اور تحفظات فراہم نہیں کیے گئے جو انہیں ایک مؤثر اور متوازن فورس بنا سکیں۔ یہی وجہ ہے کہ کئی اہلکار فرسٹریشن اور احساسِ محرومی کا شکار ہیں۔

وقت آگیا ہے کہ پولیس کے نظام کو جدید تقاضوں کے مطابق ڈھالا جائے۔ پولیس ایکٹ میں اصلاحات اب ناگزیر ہو چکی ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ عدالتوں میں پیشیوں، چالانوں اور گواہیوں کے نظام کو ڈیجیٹل اور مربوط بنایا جائے۔ ہر تھانے یا ضلع میں ایک عدالتی کوآرڈینیٹر یونٹ قائم کیا جائے جو عدالتی تقاضوں اور پولیس کے روزمرہ فرائض کے درمیان توازن قائم رکھے۔

اسی طرح ڈیوٹی کے اوقات میں شفٹ سسٹم متعارف کر کے اہلکاروں کو معقول آرام فراہم کیا جائے، تاکہ وہ بہتر کارکردگی دکھا سکیں۔ نفسیاتی معاونت یونٹس قائم کر کے ذہنی صحت کے ماہرین کو پولیس ہسپتالوں اور دفاتر میں تعینات کیا جائے۔ جدید ممالک کی طرز پر ڈیجیٹل تفتیشی نظام اپنانا بھی وقت کی ضرورت ہے، تاکہ غیر ضروری دفتری کارروائیاں کم ہوں اور شفافیت بڑھے۔

پولیس صرف ایک قانون نافذ کرنے والا ادارہ نہیں بلکہ معاشرتی امن کی ضمانت ہے۔ مگر یہ ضمانت تبھی کارگر ہو سکتی ہے جب اہلکاروں کو وہ عزت، سہولت اور اطمینان دیا جائے جو انہیں اپنے فرائض دلجمعی سے انجام دینے کے قابل بنائے۔

اگر ہم چاہتے ہیں کہ پولیس عوام کی محافظ بنے، تو ہمیں بھی اس کے تحفظ، عزت اور فلاح کے لیے آواز بلند کرنا ہوگی۔ کیونکہ ایک مضبوط پولیس ہی ایک پرامن معاشرے کی بنیاد رکھ سکتی ہے

You Might Also Like

Leave A Comment

جڑے رہیے

نیوز لیٹر

کیلنڈر

اشتہار