ریلوے کی زمینیں کمرشل لیز پر دینے کا منصوبہ، ریونیو بڑھانے کی حکمت عملی
ملتان: ریلوے سٹیٹ ڈیویلپمنٹ اینڈ مارکیٹنگ کمپنی کے سی ای او بریگیڈیئر (ریٹائرڈ) شعیب اختر کیانی نے کہا ہے کہ ریلوے کی ترقی کے لیے بزنس کمیونٹی کے تعاون کے بغیر کام ممکن نہیں۔ ریلوے کی بہترین اراضی کو کمرشل لیز پر دے کر منافع بخش بنایا جائے گا۔
ملتان ایوان صنعت و تجارت میں کاروباری افراد سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ ریلوے کی سب سے زیادہ زمین ملتان ڈویژن میں موجود ہے، جو 36 ہزار ایکڑ پر محیط ہے۔ ابتدائی طور پر سات ایکڑ پر مشتمل کمرشل جگہیں پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ (PPP) کے تحت فراہم کی جائیں گی تاکہ ریلوے کے اثاثوں سے زیادہ ریونیو حاصل کیا جا سکے۔
بریگیڈیئر شعیب اختر نے کہا کہ ریلوے کچھ سالوں سے خسارے میں رہی ہے، مگر اب بہتری کی جانب گامزن ہے۔ پرانے ٹریک اور ٹرینوں کو ماڈرن طرز پر لانے کے لیے بڑی سرمایہ کاری درکار ہے۔ PPP کے تحت پانچ ٹرینیں پہلے ہی آؤٹ سورس ہو چکی ہیں اور مزید 11 ٹرینیں آؤٹ سورس کی جائیں گی۔ ریلوے کے ہسپتال، سکول اور کالجز بھی PPP ماڈل کے تحت چلائے جائیں گے۔
انہوں نے بتایا کہ ریلوے کی اچھی زمین کو 21 اور 33 سال کے لیے لیز پر دیا جائے گا، اور پروجیکٹ کی ویلیویشن کے بعد ملٹی نیشنل کمپنیوں سے تخمینہ لگایا جائے گا۔ ان جگہوں پر ہر قسم کا کاروبار ممکن ہوگا، جس سے ریلوے کو مستحکم اور قابل اعتماد ریونیو حاصل ہوگا۔
اس موقع پر ایوان صنعت و تجارت کے صدر بختاور تنویر شیخ بھی موجود تھے۔


Leave A Comment