سرکاری ہسپتالوں میں ڈیپ کلینگ: صحت مند پنجاب کی جانب ایک اہم قدم
سجاد جہانیہ
کسی بھی معاشرے کی ترقی کا اندازہ اس کے صحت کے نظام سے لگایا جاتا ہے۔ جدید دنیا میں علاج معالجہ صرف بہترین ڈاکٹرز، ادویات اور جدید مشینری تک محدود نہیں رہا بلکہ ہسپتالوں میں صفائی، جراثیم سے پاک ماحول اور انفیکشن کنٹرول کو بھی صحت کی بنیادی ضرورت سمجھا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ترقی یافتہ ممالک میں ہسپتالوں کی صفائی کو علاج کے عمل کا لازمی حصہ قرار دیا جاتا ہے۔ پنجاب کی وزیراعلیٰ محترمہ مریم نواز شریف کی جانب سے صوبے بھر کے سرکاری ہسپتالوں میں روزانہ ڈیپ کلینگ“ کا آغاز اسی جدید سوچ اور عوام دوست وژن کا مظہر ہے۔
پہلی مرتبہ پنجاب کے سرکاری ہسپتالوں میں روزانہ بنیادوں پر جامع صفائی کا ایک مربوط نظام متعارف کرایا گیا ہے۔ اس پروگرام کے تحت تحصیل، ضلعی اور بڑے ٹیچنگ ہسپتالوں کے داخلی راستوں، راہداریوں، وارڈز، ویٹنگ ایریاز، پبلک واش رومز، آپریشن تھیٹرز، دروازوں، کھڑکیوں اور دیگر تمام مقامات کی پیشہ ورانہ انداز میں صفائی کی جا رہی ہے۔ فرشوں کو مخصوص جراثیم کش کیمیکلز سے دھویا جا رہا ہے جبکہ بچوں کے وارڈز، پیڈز اور گائنی وارڈز کی خصوصی صفائی کو یقینی بنایا جا رہا ہے تاکہ مریضوں، خصوصاً خواتین اور بچوں کو محفوظ اور صحت مند ماحول فراہم کیا جا سکے۔
یہ اقدام صرف صفائی تک محدود نہیں بلکہ انفیکشن کنٹرول کی ایک جامع حکمت عملی کا حصہ ہے۔ طبی ماہرین اس حقیقت پر متفق ہیں کہ ہسپتالوں میں ہونے والے متعدد انفیکشن ناقص صفائی، آلودہ ماحول اور جراثیم کی منتقلی کے باعث پھیلتے ہیں۔ ہسپتالوں میں مستقل بنیادوں پر جراثیم کش صفائی ہونے سے مریضوں میں انفیکشن کے امکانات کم سے کم ہوں گے
اس منصوبے کی ایک اہم خصوصیت اس کی ڈیجیٹل مانیٹرنگ ہے۔ وزیراعلیٰ محترمہ مریم نواز شریف کو روزانہ ڈیپ کلینگ کی رپورٹ پیش کی جا رہی ہے، جس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ حکومت صرف احکامات جاری کرنے تک محدود نہیں بلکہ ان پر عملدرآمد کی مسلسل نگرانی بھی کر رہی ہے۔ جدید انتظامی نظام میں یہی مو¿ثر گورننس کہلاتی ہے کہ ہر منصوبے کی نگرانی، جانچ اور احتساب کا موثر نظام موجود ہو۔
حکومت پنجاب نے ”پنجاب نیو ہیلتھ کلچر“ کے تصور کو عملی شکل دیتے ہوئے ہسپتالوں میں صفائی کو ایک مستقل پالیسی کی حیثیت دی ہے۔ ماضی میں اکثر سرکاری ہسپتالوں کے بارے میں عوامی شکایات میں صفائی کی ناقص صورتحال نمایاں ہوتی تھی لیکن موجودہ اقدامات اس تاثر کو بدلنے کی ایک سنجیدہ کوشش ہیں۔ اگر یہ سلسلہ مستقل مزاجی سے جاری رہا تو یقیناً سرکاری ہسپتالوں پر عوام کا اعتماد مزید مضبوط ہوگا۔
وزیراعلیٰ کی ہدایت پر خواتین اور بچوں کے وارڈز کی صفائی پر خصوصی توجہ دی جارہی ہے جو قابل تحسین ہے۔ نومولود بچوں، حاملہ خواتین اور بزرگ مریضوں کی قوتِ مدافعت نسبتاً کم ہوتی ہے، اس لیے انہیں انفیکشن سے بچانا نہایت ضروری ہے۔ صاف ستھرا ماحول نہ صرف ان کی جلد صحت یابی میں مدد دیتا ہے بلکہ علاج کے اخراجات اور ہسپتال میں قیام کے دورانیے کو بھی کم کرنے میں معاون ثابت ہوتا ہے۔

عالمی ادارہ صحت بھی ہسپتالوں میں انفیکشن کنٹرول اور حفظانِ صحت کے معیارپر خصوصی زور دیتا ہے۔ ترقی یافتہ ممالک میں ہسپتالوں کی صفائی کو ایک سائنسی عمل سمجھا جاتا ہے، جہاں مخصوص تربیت یافتہ عملہ جدید آلات اور جراثیم کش مواد کے ذریعے صفائی کے اعلیٰ معیار کو برقرار رکھتا ہے۔ پنجاب میں اسی طرز پر اقدامات کا آغاز اس امر کا ثبوت ہے کہ حکومت صحت کے شعبے کو بین الاقوامی معیار سے ہم آہنگ کرنے کی خواہاں ہے۔
اس منصوبے کے مثبت اثرات صرف صحت تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ معاشی اعتبار سے بھی فائدہ مند ثابت ہوں گے۔ جب ہسپتالوں میں انفیکشن کی شرح کم ہوگی تو مریضوں کو اضافی علاج، مہنگی اینٹی بائیوٹکس اور طویل عرصے تک ہسپتال میں رہنے کی ضرورت بھی کم پڑے گی۔ اس طرح نہ صرف عوام کا مالی بوجھ کم ہوگا بلکہ سرکاری وسائل کی بھی بچت ہوگی، جسے صحت کے دیگر شعبوں میں استعمال کیا جا سکے گا۔
روزنامہ ایشیا اردو میں پبلش مواد ارٹیکل
وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کا یہ بیان کہ ”پنجاب کے ہر شہری بالخصوص بچوں اور خواتین کی صحت کی فکر ہے“ دراصل عوامی خدمت کے اس وژن کی عکاسی کرتا ہے جس میں انسانی جان کو اولین ترجیح دی گئی ہے۔ عوام کی صحت کے تحفظ کے لیے صفائی کو بنیادی حیثیت دینا ایک مثبت اور دور اندیش فیصلہ ہے، جس کے نتائج آنے والے برسوں میں مزید واضح ہوں گے۔



Leave A Comment