راولپنڈی: پاک فوج کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری نے واضح کیا ہے کہ دہشت گردوں کے ساتھ کسی قسم کے مذاکرات کی گنجائش نہیں، انہیں یا تو ہتھیار ڈالنا ہوں گے یا پھر ریاست پوری قوت سے ان کا خاتمہ کرے گی۔

سکیورٹی صورتحال پر نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ڈی جی آئی ایس پی آر نے بتایا کہ سکیورٹی فورسز نے ملک بھر میں 40 ہزار 348 انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کیے، جن میں 2 ہزار 84 دہشت گرد ہلاک جبکہ 819 اہلکار وطن پر قربان ہوئے۔ ان کے مطابق بلوچستان میں 31 ہزار 80 اور خیبرپختونخوا میں 7 ہزار 177 آپریشنز کیے گئے، جبکہ ملک کے دیگر علاقوں میں 2 ہزار 91 کارروائیاں کی گئیں۔

انہوں نے بتایا کہ سال 2026 کے دوران 28 بم دھماکوں کے واقعات رپورٹ ہوئے، جن میں ملوث بیشتر عناصر افغان شہری تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ ریاست کے خلاف ہتھیار اٹھانے والوں سے کوئی رعایت نہیں برتی جائے گی۔

لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری نے کہا کہ بلوچستان کے حوالے سے منظم منفی پروپیگنڈا کیا جا رہا ہے، جبکہ آئین اور قانون کی حکمرانی ہر شہری پر یکساں لاگو ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ "ریاست ہے تو سیاست ہے، ریاست ہے تو جان ہے، ریاست ہے تو پہچان ہے"۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ دہشت گردی کے واقعات میں 322 پاکستانی شہری شہید ہوئے۔ ان کا کہنا تھا کہ کچھ عناصر صرف حقوق کی بات کرتے ہیں مگر اپنے آئینی فرائض کو نظر انداز کرتے ہیں، جبکہ آئین کا آرٹیکل 5 ہر شہری پر ریاست سے وفاداری لازم قرار دیتا ہے۔

انہوں نے الزام عائد کیا کہ بعض بلوچ سردار دہشت گردی کی سرپرستی اور اسمگلنگ جیسے غیر قانونی کاروبار میں ملوث ہیں۔ ان کے بقول بعض عناصر لیویز فورس کو ذاتی فورس سمجھتے ہیں اور سرکاری وسائل پر ناجائز کنٹرول چاہتے ہیں۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے مزید کہا کہ افغانستان کی طالبان حکومت دہشت گرد عناصر کی معاونت کر رہی ہے، جبکہ بھارت اور دہشت گرد تنظیموں کے درمیان روابط بھی پاکستان کے لیے ایک بڑا سکیورٹی چیلنج ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں ترقیاتی منصوبوں کو سبوتاژ کرنے کے لیے مزدوروں اور بے گناہ شہریوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے، تاہم ریاست دہشت گردی کے خلاف کارروائیاں پوری قوت کے ساتھ جاری رکھے گی۔

You Might Also Like

Leave A Comment

جڑے رہیے

نیوز لیٹر

کیلنڈر

اشتہار