ڈیرہ غازی خان/سنیئر رپورٹر 

اس وقت بہت بڑی نافرمانی جو کہ مجموعی طور پر ہم سے سرزد ہو رہی ہے وہ سودی معیشت ہے جس کو حکومت وقت سے لے کر عام آدمی تک اختیار کیے ہوئے ہے۔ہمارے اوپر جتنی بھی مشکلات اور تکالیف ہیں چاہے وہ بد امنی کی صورت میں ہو،مہنگائی ہو یا باہم دست و گریباں ہونا ان سب کی وجہ ہمارے اپنے اعمال ہیں جن کا نتیجہ آج ہم بھگت رہے ہیں۔ان خیالات کا اظہارامیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ و سربراہ تنظیم الاخوان پاکستان نے آن لائن اجتماع کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے کیا۔انہوں نے کہا کہ ہم نمازیں بھی پڑھ رہے ہیں نیک اعمال بھی کر رہے ہیں اور حرام بھی کھا رہے ہیں ایسے میں ہمارے سجدوں کی شرف قبولیت کیا ہوگی۔بحیثیت مجموعی ایک سقوط ہے کوئی بھی غلط کو غلط نہیں کہہ رہا۔سب اپنی ذات کو بچانے کی فکر کر رہے ہیں۔ معاشرے میں جو اُلجھاؤ اور تضادات ہیں ان کی درستگی کے لیے کوئی قدم نہیں اُٹھایا جا رہا۔انہوں نے مزید کہا کہ قرآن کریم کو دیکھنا،چھونا،پڑھنا اور عمل کرنا اجروثواب ملتا ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ قرآن کریم سے راہنمائی لی جائے اور اپنے کردارکوکے اس کے مطابق ڈھالا جائے۔خود کو صرف دنیا کے حوالے کر دینا مقصد حیات نہیں ہے مقصد حیات اللہ کی رضا ہے۔یہ عارضی اور فانی جہان ہے ہر گزرنے والے دن کے اثرات ہم پر مرتب ہوتے ہیں ہماری زندگی شہادت دے رہی ہے کہ وقت گزر رہا ہے۔کتاب الٰہی عمل پیرا ہونے کے لیے ہے ہماری ذمہ داری ہے ہم دین کو سیکھیں،سمجھیں اور اس پر عمل کریں۔ساری کامیابی اور ہدایت اس اللہ کی کتاب میں موجود ہے۔بنیادی بات یہ ہے کہ اپنے اللہ کے حضور توبہ کریں یہ احساس غالب آئے کہ جو میں نے کیا غلط کیا شرمندگی محسوس ہو ندامت ہو اور سچے دل سے اللہ کریم سے توبہ کی جائے ہم اپنی پسندو نا پسند کو جب اللہ کے حکم کے مقابل لاتے ہیں یہ درست نہیں اللہ کے حکم اور اللہ کی پسند پر زندگی گزارنی چاہیے۔اللہ کریم صحیح شعور عطا فرمائیں۔آخر میں انہوں نے ملکی سلامتی اور بقا کی اجتماعی دعا فرمائی۔

You Might Also Like

Leave A Comment

جڑے رہیے

نیوز لیٹر

کیلنڈر

اشتہار