ایک نئی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ زیادہ تر معمر افراد 6 سے 8 گھنٹے سونے کے باوجود معیاری اور پُرسکون نیند سے محروم رہتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق ہر 10 میں سے 9 افراد رات کو مکمل دورانیہ سونے کے باوجود بار بار نیند میں خلل کا شکار ہوتے ہیں، جس کے باعث وہ خود کو تازہ دم محسوس نہیں کر پاتے۔

تحقیق کے مطابق 50 سال سے زائد عمر کے افراد میں نیند کے مسائل تیزی سے بڑھ رہے ہیں اور یہ مسئلہ اب ایک سنگین صورت اختیار کر چکا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ کام سے متعلق ذہنی دباؤ اس کی بڑی وجہ ہے، جو نہ صرف دن کے اوقات بلکہ رات کے سکون کو بھی متاثر کرتا ہے۔

مزید بتایا گیا ہے کہ نیند کے دوران بار بار جاگنا اصل مسئلہ ہے، نہ کہ صرف نیند کا دورانیہ۔ تحقیق میں شامل افراد میں سے تقریباً 90 فیصد رات کے دوران کئی مرتبہ جاگتے رہے، جبکہ 70 فیصد افراد مسلسل نیند کی خرابی کا شکار پائے گئے۔

ماہرین صحت کے مطابق بے خوابی کئی خطرناک بیماریوں جیسے ڈیمنشیا، ڈپریشن اور کینسر سے بھی جڑی ہوئی ہے، جس کے باعث اس مسئلے کو سنجیدگی سے لینا ضروری ہے۔ تحقیق سے یہ بھی واضح ہوا ہے کہ بہتر نیند کے لیے کام اور ذاتی زندگی کے درمیان توازن برقرار رکھنا انتہائی اہم ہے۔

ماہرین نے اس بات پر زور دیا ہے کہ افراد کو ذہنی دباؤ کم کرنے، صحت مند معمولات اپنانے اور نیند کے معیار کو بہتر بنانے کے لیے عملی اقدامات کرنے چاہئیں تاکہ مجموعی صحت اور معیارِ زندگی بہتر بنایا جا سکے۔

 

You Might Also Like

Leave A Comment

جڑے رہیے

نیوز لیٹر

کیلنڈر

اشتہار