محکمہ زراعت نے مکئی کے کاشتکاروں کو ہدایت کی ہے کہ فصل کو فال آرمی سنڈی کے ممکنہ حملے سے محفوظ رکھنے کیلئے کھیتوں کی باقاعدگی سے نگرانی کریں اور کیڑے کی موجودگی یا مشتبہ علامات سامنے آنے پر فوری طور پر زرعی ماہرین سے رابطہ کریں۔

اسسٹنٹ ڈائریکٹر زراعت توسیع عامر صدیق نے کہا کہ فال آرمی سنڈی مکئی کی فصل کو نقصان پہنچانے والا اہم کیڑا ہے، تاہم بروقت تشخیص اور مناسب تدارک کے ذریعے فصل کو بڑے نقصان سے بچایا جاسکتا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ فال آرمی سنڈی کی مختلف حیاتیاتی حالتیں ہوتی ہیں۔ ابتدائی مرحلے میں سنڈی ہلکے سبز، کریمی یا ہلکے بھورے رنگ کی ہوسکتی ہے، جبکہ عمر بڑھنے کے ساتھ اس کی رنگت اور جسمانی ساخت میں تبدیلی آتی ہے۔ بالغ پروانہ عموماً بھورے رنگ کا ہوتا ہے اور اس کے اگلے پروں پر سفید تکونی دھبے نمایاں ہوتے ہیں۔

کاشتکاروں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ مکئی کے پودوں کے پتوں اور کونپلوں کا باقاعدگی سے معائنہ کریں۔ سنڈی، اس کے فضلے یا پتوں پر کسی بھی مشتبہ نشان کو نظر انداز نہ کیا جائے کیونکہ کیڑے کی بروقت شناخت نہ ہونے کی صورت میں اس کی تعداد تیزی سے بڑھ سکتی ہے۔

محکمہ زراعت کے مطابق فال آرمی سنڈی انڈے سے نکلنے کے بعد مختلف مراحل سے گزرتی ہے اور تقریباً 18 سے 30 دن میں سنڈی کا مرحلہ مکمل کرسکتی ہے۔ اس دوران فصل کی مسلسل نگرانی انتہائی اہم ہے۔

ماہرین نے کاشتکاروں کو غیرضروری یا غیرموزوں زرعی ادویات کے استعمال سے گریز کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ کیڑے کی موجودگی کی صورت میں محکمہ زراعت کی سفارشات کے مطابق ہی تدارکی اقدامات کیے جائیں۔

کاشتکار زرعی مسائل اور فصلوں کے کیڑوں و بیماریوں سے متعلق رہنمائی کیلئے ایگریکلچر ہیلپ لائن 0800-17000 پر بھی رابطہ کرسکتے ہیں۔

 

You Might Also Like

Leave A Comment

جڑے رہیے

نیوز لیٹر

کیلنڈر

اشتہار