سمبڑیال: اسسٹنٹ ڈائریکٹر محکمہ زراعت سمبڑیال ڈاکٹر افتخار حسین بھٹی نے کہا ہے کہ بار بار دھان کی کاشت والے کھیتوں میں زنک اور بوران کی کمی پیدا ہو سکتی ہے، اس لیے کاشتکار ایسی زمینوں میں زنک سلفیٹ کے استعمال پر خصوصی توجہ دیں۔

انہوں نے بتایا کہ باسمتی چاول کی اقسام فی ایکڑ 65 من تک پیداوار دینے کی صلاحیت رکھتی ہیں، تاہم بہتر پیداوار کے لیے کھاد اور پانی کا مناسب استعمال، جبکہ کیڑوں اور بیماریوں کا بروقت تدارک ضروری ہے۔

انہوں نے کاشتکاروں کو ہدایت کی کہ باسمتی اقسام میں نائٹروجنی کھاد کی آخری قسط لاب کی منتقلی کے 50 دن کے اندر استعمال کریں۔ دھان کی فصل میں سلفر کوٹڈ یوریا یا امونیم سلفیٹ کے استعمال سے بھی بہتر نتائج حاصل کیے جا سکتے ہیں۔

ڈاکٹر افتخار حسین بھٹی کے مطابق زنک کی کمی کی صورت میں دھان کے پودوں کی جڑیں چھوٹی رہ جاتی ہیں اور پنیری کی منتقلی کے ایک ماہ کے اندر نچلے پتوں پر مخصوص نشان ظاہر ہونے لگتے ہیں۔ زنک کی کمی سے پودے دیگر غذائی اجزا حاصل کرنے میں بھی مشکلات کا شکار ہوتے ہیں، جس سے فصل کی بڑھوتری اور پیداوار متاثر ہوتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر نرسری میں زنک سلفیٹ استعمال نہ کیا گیا ہو تو پنیری کی منتقلی کے 2 سے 3 ہفتے کے اندر 33 فیصد طاقت والا زنک سلفیٹ 5 سے 10 کلوگرام فی ایکڑ استعمال کیا جائے۔ بوران کی کمی کی صورت میں ایک سے دو کلوگرام بورک ایسڈ فی ایکڑ ڈالنے کی بھی سفارش کی گئی ہے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ پنیری کی منتقلی کے ایک ماہ بعد کھیت کا پانی خشک کرکے زمین میں آکسیجن کا گزر بہتر بنایا جائے تو زنک اور بوران کی معمولی کمی پر قابو پانے میں مدد مل سکتی ہے۔

محکمہ زراعت کے مطابق دھان کی فصل کے ابتدائی 40 دنوں میں 2 سے 3 انچ پانی کھڑا رکھنے سے فصل میں زیادہ شگوفے بن سکتے ہیں، تاہم اس سے زیادہ پانی کھڑا رہنے سے شگوفوں کی تعداد کم اور پیداوار متاثر ہو سکتی ہے۔ اس لیے پنیری کی منتقلی کے 40 دن بعد پانی کی مقدار کم کرکے کھیت کو وتر آنے دینا بہتر پیداوار کے لیے مفید ہے۔

 

You Might Also Like

Leave A Comment

جڑے رہیے

نیوز لیٹر

کیلنڈر

اشتہار