پیف (PEF) پارٹنر سکولوں کی مالی مشکلات
کیا پنجاب آؤٹ آف سکول بچوں کے نئے تعلیمی بحران کی طرف بڑھ رہا ہے؟
تحریر:محمد اظہر خان داؤدی
پنجاب میں تعلیم کے فروغ کی بات ہو تو پنجاب ایجوکیشن فاؤنڈیشن (PEF) کا نام ہمیشہ نمایاں نظر آتا ہے۔ گزشتہ دو دہائیوں کے دوران PEF کے پارٹنر سکولوں نے وہ ذمہ داری نبھائی ہے جو شاید حکومت اپنے محدود وسائل کے باعث تنہا انجام نہیں دے سکتی تھی۔ دور دراز دیہات، پسماندہ بستیوں اور کم آمدنی والے خاندانوں کے لاکھوں بچوں کو مفت اور معیاری تعلیم فراہم کرکے انہی سکولوں نے PEF کو نہ صرف پاکستان بلکہ بین الاقوامی سطح پر ایک کامیاب پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ ماڈل کے طور پر متعارف کرایا۔ PEF کی شناخت، ساکھ اور کامیابی انہی پارٹنر سکولوں کی مرہونِ منت ہے۔
بدقسمتی سے آج یہی سکول شدید مالی مشکلات سے دوچار ہیں۔ پارٹنر سکول مالکان کے مطابق انہیں فی طالب علم تقریباً 800 روپے ماہانہ ملتے ہیں، جبکہ موجودہ مہنگائی میں اس رقم سے معیاری تعلیم فراہم کرنا انتہائی مشکل ہو چکا ہے۔ اس محدود فنڈ سے اساتذہ کی تنخواہیں، عمارتوں کے کرائے، بجلی، گیس، انٹرنیٹ، فرنیچر، امتحانات، صفائی، سکیورٹی اور دیگر تمام انتظامی اخراجات پورے کرنا کسی بھی تعلیمی ادارے کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے۔
اس کے باوجود PEF کے FAS، EVS اور NSP پروگراموں سے وابستہ سکولوں سے وہی معیار، وہی QAT، وہی امتحانی نتائج اور وہی کارکردگی مطلوب ہے جو دیگر تعلیمی منصوبوں سے لی جا رہی ہے۔ دوسری جانب حکومت کے آؤٹ سورس سکول پروگرام (PSRP) کو سرکاری عمارتیں، بنیادی انفراسٹرکچر اور دیگر سہولیات حاصل ہیں۔ یقیناً PSRP ایک اہم منصوبہ ہے، لیکن اگر دونوں پروگراموں سے یکساں نتائج اور معیار درکار ہیں تو وسائل اور مالی معاونت میں بھی مناسب توازن ہونا چاہیے۔
یہ سوال اپنی جگہ موجود ہے کہ جس نظام کی بنیاد انہی پارٹنر سکولوں پر کھڑی ہے، جسے انہی اداروں نے کامیاب بنایا اور جس کے ذریعے پنجاب نے تعلیمی میدان میں اپنی شناخت قائم کی، آج انہی سکولوں کو مالی مشکلات میں کیوں چھوڑا جا رہا ہے؟ اگر یہی بنیادی ستون کمزور ہو گئے تو نہ صرف PEF کی برسوں کی ساکھ متاثر ہوگی بلکہ پنجاب کا تعلیمی ڈھانچہ بھی شدید نقصان سے دوچار ہو سکتا ہے۔
اصل مسئلہ صرف سکول مالکان کا نہیں بلکہ پنجاب کے لاکھوں بچوں کے مستقبل کا ہے۔ اگر مالی مشکلات کی وجہ سے PEF پارٹنر سکول بند ہونا شروع ہو گئے تو سب سے زیادہ متاثر وہ غریب بچے ہوں گے جو آج انہی اداروں میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ پنجاب پہلے ہی آؤٹ آف سکول بچوں کی بڑی تعداد کے چیلنج سے نبرد آزما ہے۔ اگر موجودہ فعال تعلیمی شراکت دار کمزور ہوئے تو اس بحران میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے، اور حکومت کے لیے مختصر وقت میں اتنے بچوں کو دوبارہ سکولوں میں لانا ایک بہت بڑا چیلنج بن جائے گا۔
یہ وقت کسی ایک پروگرام کو دوسرے پر فوقیت دینے کا نہیں بلکہ پورے تعلیمی نظام کو مضبوط بنانے کا ہے۔ PEF سکول اور PSRP دونوں حکومت کے اہم منصوبے ہیں، لیکن پالیسیوں میں ایسا توازن ہونا چاہیے کہ کسی بھی پروگرام سے وابستہ ادارے خود کو نظرانداز محسوس نہ کریں۔ جو ادارے برسوں سے حکومت کے شانہ بشانہ تعلیم کی خدمت کر رہے ہیں، انہیں مضبوط کرنا ہی دانشمندانہ پالیسی ہوگی۔
پارٹنرز سکولز وزیراعلیٰ پنجاب محترمہ مریم نواز، وزیر تعلیم رانا سکندر حیات، پنجاب ایجوکیشن فاؤنڈیشن کے منیجنگ ڈائریکٹر اور بورڈ آف ڈائریکٹرز سے مؤدبانہ گزارش کرتے ہیں کہ PEF پارٹنر سکولوں کی فی طالب علم ماہانہ ادائیگی کا فوری ازسرِنو جائزہ لیا جائے، FAS، EVS اور NSP پروگراموں کے لیے فنڈنگ کو موجودہ معاشی حالات سے ہم آہنگ کیا جائے، کرائے کی عمارتوں میں چلنے والے سکولوں کے لیے خصوصی معاونت پر غور کیا جائے اور پارٹنر سکولوں کی نمائندہ تنظیموں سے مشاورت کرکے ایسی پالیسی مرتب کی جائے جو تعلیمی معیار اور اداروں کے استحکام، دونوں کو یقینی بنا سکے۔
روزنامہ ایشیا اردو میں پبلش ارٹیکل
آج فیصلہ صرف چند سو روپے فی طالب علم کا نہیں، بلکہ پنجاب کے تعلیمی مستقبل کا ہے۔ اگر PEF پارٹنر سکولوں کی مالی مشکلات کو بروقت حل نہ کیا گیا تو اس کے اثرات صرف سکول مالکان تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ لاکھوں بچوں کے تعلیمی مستقبل پر مرتب ہوں گے۔ ایک مضبوط پنجاب کی بنیاد مضبوط تعلیمی ادارے ہیں، اور PEF کے پارٹنر سکول اس بنیاد کا اہم ستون ہیں۔ ان اداروں کو مضبوط کرنا صرف سکولوں کی نہیں بلکہ پنجاب کے مستقبل کی حفاظت ہے۔



Leave A Comment