انسٹاگرام نے ایسے اکاؤنٹس کے خلاف کارروائی سخت کرنے کا فیصلہ کیا ہے جو بظاہر حقیقی افراد کے پروفائلز دکھائی دیتے ہیں، تاہم درحقیقت مصنوعی ذہانت کے ذریعے تخلیق کیے گئے فرضی کرداروں پر مبنی ہوتے ہیں۔

صارفین کی جانب سے شکایات موصول ہونے کے بعد انسٹاگرام نے اے آئی سے تیار کردہ فرضی شخصیات کے اکاؤنٹس سے متعلق اپنی پالیسی میں تبدیلی کا فیصلہ کیا ہے۔ ایسے اکاؤنٹس کو مکمل طور پر بند نہیں کیا جائے گا، تاہم ان کی مصنوعی شناخت واضح کرنے کے لیے لیبل تبدیل کیا جائے گا۔

انسٹاگرام کے مطابق موجودہ ’اے آئی کریئٹر‘ لیبل کو تبدیل کرکے ’اے آئی جنریٹڈ پروفائل‘ کردیا جائے گا، تاکہ صارفین کو واضح طور پر معلوم ہوسکے کہ متعلقہ پروفائل کسی حقیقی شخص کے بجائے مصنوعی ذہانت سے تخلیق کردہ کردار پر مبنی ہے۔

کمپنی کا کہنا ہے کہ جن فرضی اے آئی پروفائلز پر مناسب لیبل موجود نہیں ہوگا، ان کی رسائی محدود کی جاسکتی ہے، جس کے نتیجے میں ان اکاؤنٹس کی پوسٹس کم صارفین تک پہنچیں گی۔

انسٹاگرام کے مطابق پالیسی میں تبدیلی صارفین کی جانب سے موصول ہونے والے فیڈ بیک کی بنیاد پر کی گئی ہے۔ پلیٹ فارم نے رواں سال کے آغاز میں ’اے آئی کریئٹر‘ لیبل کی آزمائش شروع کی تھی، جس کا مقصد اے آئی سے تیار کردہ فرضی کرداروں اور پروفائلز کے بڑھتے ہوئے رجحان سے نمٹنا تھا۔

نئی پالیسی کے ذریعے انسٹاگرام صارفین کو یہ سمجھنے میں مدد دینا چاہتا ہے کہ ان کے سامنے موجود پروفائل کسی حقیقی فرد کا ہے یا مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ ایک فرضی شناخت۔

You Might Also Like

Leave A Comment

جڑے رہیے

نیوز لیٹر

کیلنڈر

اشتہار