ممتا کا قتل یا معاشرتی جنازہ؟
تحریر: محمد جمیل شاہین راجپوت (کالم نگار و تجزیہ نگار)
لاہور کے قدیم اور گنجان آباد علاقے اچھرہ کی ایک تنگ گلی سے اٹھنے والا دھواں صرف ایک گھر کا نہیں بلکہ ہمارے پورے معاشرتی ڈھانچے کے جل کر راکھ ہونے کی علامت ہے۔ جب ایک ماں، جس کے قدموں تلے جنت کی بشارت دی گئی، اپنے ہی جگر گوشوں کے حلق میں دودھ کے بجائے "موت" اتار دے، تو سمجھ لیجیے کہ ضمیر کا قحط مادی بھوک سے زیادہ سنگین ہو چکا ہے۔ اچھرہ کا یہ لرزہ خیز واقعہ، جہاں ایک خاتون نے اپنے تین معصوم بچوں کو زہر دے کر خودکشی کی کوشش کی، محض ایک حادثہ نہیں بلکہ ہماری ریاست، سماج اور خاندانی نظام کی اجتماعی ناکامی کا نوحہ ہے۔
تفتیش کی تہیں کھلی تو معلوم ہوا کہ یہ صرف 30 ہزار کی قلیل تنخواہ اور 60 ہزار کے اخراجات کی جنگ نہیں تھی، بلکہ یہ "اعتبار" کے ٹوٹنے کا کرب تھا۔ جب گھر کا محافظ اور سائبان کہلانے والا شوہر اپنی معاشی بے بسی کا غصہ بیوی کے کردار پر نکالنے لگے اور اسے "شک" کی سولی پر چڑھا دے، تو ممتا کا مان ٹوٹ جاتا ہے۔ سوشل میڈیا کی مصنوعی چکا چوند اور حقیقی زندگی کی تلخیوں نے اس عورت کو ایک ایسی نفسیاتی بند گلی میں دھکیل دیا جہاں اسے اپنے بچوں کا مستقبل اندھیرے کے سوا کچھ نظر نہ آیا۔ اس نے سوچا ہوگا کہ انہیں اس بے رحم دنیا میں ٹھوکریں کھانے کے لیے چھوڑنے سے بہتر ہے کہ انہیں ابدی نیند سلا دیا جائے۔
ستم ظریفی کی انتہا دیکھیے کہ اسی گھر کے ساتھ والے کمرے میں سگے رشتے موجود تھے، مگر کسی کو اس "خاموش چیخ" کا احساس نہ ہوا جو دیوار کے پیچھے دم توڑ رہی تھی۔ یہ ہماری اس معاشرتی بے حسی پر تازیانہ ہے جہاں ہم پڑوسی تو دور، اپنے سگے خون کی تکلیف سے بھی بے خبر ہوتے جا رہے ہیں۔
شاہینیات: کالم کا نچوڑ اور تجزیہ
شاہینیات کے تحت اس واقعے کا عمیق تجزیہ کیا جائے تو چند تلخ حقائق سامنے آتے ہیں:
اختیار کا غلط استعمال: معاشی تنگی ایک حقیقت ہے، مگر اسے بنیاد بنا کر شریکِ حیات کی تذلیل کرنا اخلاقی موت ہے۔
ریاست کی غفلت: کیا ہماری ریاست اتنی کمزور ہو چکی ہے کہ ایک سفید پوش خاندان کو راشن کے لیے جان دینی پڑے؟
انتظامی خلا: ہمارے پاس کرائم رپورٹنگ کے لیے تو نمبرز ہیں، مگر "انسانیت کی پکار" سننے کے لیے کوئی مربوط نظام نہیں۔
Stress Management: کٹھن حالات میں کیا کریں؟
اگر آپ یا آپ کا کوئی جاننے والا ایسے ہی معاشی یا ذہنی دباؤ کا شکار ہے، تو یاد رکھیں کہ موت حل نہیں ہے۔
خاموشی توڑیں: بھوک یا غریبی کوئی گناہ نہیں ہے۔ اگر فاقوں کی نوبت آ جائے تو محلے کے معززین، مسجد کے امام یا فلاحی اداروں (ایدھی، سیلانی وغیرہ) سے رجوع کرنے میں عار محسوس نہ کریں۔
انتظامیہ کو پکاریں (15 پر کال): عوام کو یہ شعور دینا ضروری ہے کہ 15 صرف چور پکڑنے کے لیے نہیں ہے۔ اگر آپ کو لگے کہ بھوک آپ کے بچوں کی جان لے لے گی اور کوئی راستہ نہیں بچا، تو 15 پر کال کریں۔ انتظامیہ کا فرض ہے کہ وہ فوری طور پر آپ کو مجسٹریٹ یا فلاحی اداروں کے ذریعے ہنگامی امداد فراہم کرے۔ یہ آپ کا آئینی حق ہے۔
حکومت کے لیے تجاویز
حکومت کو چاہیے کہ یونین کونسل کی سطح پر "سوشل سپورٹ ڈیسک" قائم کرے جہاں سفید پوش لوگ اپنی انا برقرار رکھتے ہوئے مدد حاصل کر سکیں۔ 15 کی طرز پر ایک "ہنگامی بھوک ہیلپ لائن" ہونی چاہیے جہاں سے فوری پکا ہوا کھانا یا راشن فراہم کیا جائے تاکہ کسی اور ماں کو قاتل نہ بننا پڑے۔
یاد رکھیے! حالات کتنے ہی سنگین کیوں نہ ہوں، اللہ کی رحمت سے مایوسی کفر ہے۔ اگر ہم ایک دوسرے کا سہارا بننا سیکھ لیں، تو کسی انیقہ کو اپنے معصوم پھولوں کو مرجھانے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔



Leave A Comment