اولبرز پیراڈوکس اور اسلام
تحریر: محمد جمیل شاہین راجپوت
کبھی آپ نے غور کیا ہے کہ رات کا آسمان سیاہ کیوں ہوتا ہے؟ بظاہر یہ ایک نہایت سادہ، معصومانہ اور شاید بچوں والا سوال معلوم ہوتا ہے، لیکن علمِ فلکیات (Astronomy) اور کائناتی طبیعیات (Cosmology) کی تاریخ میں اس ایک سوال نے صدیوں تک دنیا کے عظیم ترین دماغوں کو چکرا کر رکھ دیا۔ اگر کائنات واقعی لامحدود ہے، اس میں ہر سمت اربوں، کھربوں ستارے اور کہکشائیں موجود ہیں، اور ان ستاروں کی روشنی کروڑوں سال سے مسلسل سفر کر رہی ہے، تو پھر رات کا آسمان مکمل روشن کیوں نہیں ہوتا؟ ہماری نظر جس طرف بھی اٹھے، وہاں کسی نہ کسی ستارے کا وجود ہونا چاہیے، پھر یہ گھپ اندھیرا اور سیاہی کیوں؟ سائنس کی دنیا میں اس تضاد کو "اولبرز پیراڈوکس" (Olbers' Paradox) کہا جاتا ہے، جس کا حتمی جواب بیسویں صدی کی جدید ترین سائنسی دریافتوں نے فراہم کیا۔ مگر حیرت انگیز بات یہ ہے کہ جو جواب سائنس نے اب دیا، اس کے بنیادی اشارے چودہ سو سال قبل ہی اسلام کے ماخذات میں موجود تھے۔
اس پیراڈوکس کو سمجھنے کے لیے انیسویں صدی کے جرمن ماہرِ فلکیات ہائنرش اولبرز کا پیش کردہ ایک استدلال سمجھنا ضروری ہے۔ تصور کریں کہ آپ ایک ایسے گھنے جنگل میں کھڑے ہیں جہاں ہر طرف درخت ہی درخت ہوں۔ آپ اپنی نظر جس سمت بھی دوڑائیں گے، آپ کی نگاہ کسی نہ کسی درخت کے تنے پر جا کر ہی رکے گی، آپ کو جنگل کے پار کا خلا نظر نہیں آئے گا۔ اولبرز کا کہنا تھا کہ اگر یہ کائنات ہمیشہ سے قائم ہے (Static and Eternal) اور اس کی کوئی ابتدا یا انتہا نہیں، تو ستاروں کی اتنی کثرت ہونی چاہیے کہ ان کی مجموعی روشنی سے رات کا آسمان بھی دن کی طرح چمکنا چاہیے تھا۔ اس دور کے سائنسدانوں نے اس کا حل یہ پیش کیا کہ شاید خلا میں موجود گرد و غبار اس روشنی کو روک لیتی ہے، مگر یہ منطق جلد ہی دم توڑ گئی کیونکہ اگر گرد روشنی جذب کرے گی تو وہ خود گرم ہو کر چمکنے لگے گی۔
روزنامہ ایشیا اردو میں پبلش ارٹیکل
اصل حقیقت تب سامنے آئی جب جدید کاسمولوجی نے یہ ثابت کیا کہ کائنات ہمیشہ سے موجود نہیں تھی، بلکہ اس کی ایک ابتدا تھی جسے ہم "بگ بینگ" کہتے ہیں، جو کہ تقریباً 13.8 ارب سال پہلے رونما ہوا۔ چونکہ روشنی کی رفتار محدود ہے، اس لیے ہمیں صرف انہی ستاروں کی روشنی نظر آتی ہے جن کا فاصلہ 13.8 ارب نوری سال کے اندر ہے۔ اس سے پرے موجود بے شمار ستاروں کی روشنی ابھی ہم تک پہنچی ہی نہیں! دوسری بڑی وجہ کائنات کا مسلسل پھیلاؤ ہے۔ کائنات اتنی تیز رفتاری سے پھیل رہی ہے کہ دور دراز کی کہکشاؤں سے آنے والی روشنی کی لہریں کھنچ کر لمبی ہو جاتی ہیں، جسے سائنسی زبان میں "ریڈ شفٹ" (Redshift) کہتے ہیں۔ یہ روشنی اتنی پھیل جاتی ہے کہ ہماری آنکھ کی حد سے نکل کر انفرا ریڈ (Infrared) میں چلی جاتی ہے اور ہمیں نظر نہیں آتی۔ یوں رات کا اندھیرا دراصل کائنات کے "محدود عمر" ہونے اور اس کے "مسلسل پھیلاؤ" کا سب سے بڑا ثبوت بن گیا۔
اب آئیے اس سائنسی حقیقت کا موازنہ اسلامی تصورِ کائنات سے کرتے ہیں۔ یونانی فلاسفہ اور بیسویں صدی کے اوائل تک کے مغربی سائنسدانوں کا ماننا تھا کہ کائنات "ازلی اور ساکن" ہے، یعنی یہ ہمیشہ سے ایسی ہی ہے اور ہمیشہ رہے گی۔ لیکن اسلام نے آتے ہی اس نظریے کی جڑیں کاٹ دیں اور بتایا کہ کائنات "حادث" ہے، یعنی یہ پہلے موجود نہیں تھی بلکہ اسے ایک خاص لمحے میں عدم سے وجود میں لایا گیا ہے۔
قرآنِ مجید سورہ البقرہ میں فرماتا ہے:
"بَدِيعُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ" (وہ آسمانوں اور زمین کو بغیر کسی مادہ اور مثال کے، پہلی بار پیدا کرنے والا ہے)۔
یہی وہ نقطہ ہے جس پر بگ بینگ تھیوری مہرِ تصدیق ثبت کرتی ہے کہ کائنات کی ایک ابتدا تھی۔
امیر المؤمنین حضرت علی ابن ابی طالب علیہ السلام نے "نہج البلاغہ" کے پہلے ہی خطبے میں کائنات کی تخلیق کے اس راز سے پردہ اٹھایا۔ آپ فرماتے ہیں:
"اس نے مخلوقات کو بغیر کسی نمونے کے پیدا کیا جو پہلے سے موجود ہو، اور نہ ہی اس کی تخلیق کے لیے اس نے کسی پہلے سے موجود صانع کی مدد لی... اس کے وجود نے وقت پر سبقت کی اور اس کے وجود سے عدم، وجود میں بدل گیا۔"
نہج البلاغہ کا یہ فلسفہ صاف بتاتا ہے کہ وقت اور مادہ ہمیشہ سے نہیں تھے، بلکہ خدا نے انہیں عدم سے تخلیق کیا، جس کی وجہ سے اجرامِ فلکی کی عمر محدود ہے اور ان کی روشنی ابھی راستے میں ہے۔
دوسرا سائنسی رخ جو اولبرز پیراڈوکس کو حل کرتا ہے، وہ "کائنات کا پھیلاؤ" ہے۔ قرآنِ پاک نے اس حقیقت کو اتنے واشگاف لفظوں میں بیان کیا ہے کہ عقل دنگ رہ جاتی ہے۔ سورہ الذاریات میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
"وَالسَّمَاءَ بَنَيْنَاهَا بِأَيْدٍ وَإِنَّا لَمُوسِعُونَ" (اور آسمان کو ہم نے بڑی قوت سے بنایا ہے اور یقیناً ہم اس کو وسعت دینے والے/پھیلانے والے ہیں)۔
یہاں لفظ "لَمُوسِعُونَ" اسمِ فاعل کی حالت میں ہے، جو عربی گرائمر کی رو سے کسی کام کے مسلسل جاری رہنے کو ظاہر کرتا ہے۔ یعنی کائنات ساکن نہیں بلکہ ہر لمحہ پھیل رہی ہے، اور اسی پھیلاؤ (Expansion) کے نتیجے میں پیدا ہونے والے ریڈ شفٹ کی وجہ سے رات کا آسمان سیاہ دکھائی دیتا ہے۔
ستاروں کی زندگی اور ان کے ایندھن کے ختم ہونے کا تصور بھی اولبرز پیراڈوکس کا حصہ ہے کہ ستارے ابدی نہیں ہیں۔ قرآنِ کریم اس کائناتی حقیقت کو سورہ المرسلات میں یوں بیان کرتا ہے:
"فَإِذَا النُّجُومُ طُمِسَتْ" (پس جب ستارے بے نور کر دیے جائیں گے)۔
یہ ستاروں کے بجھنے (Stellar Evolution) اور ان کی انرجی ختم ہونے کا واضح اعلان ہے۔
مسلم مفکرین نے بھی صدیوں پہلے مغربی دنیا کے اس وہم کو مسترد کر دیا تھا کہ کائنات ازلی ہے۔ نویں صدی کے عظیم مسلم فلاسفر امام الکندی نے اپنی کتب میں ریاضیاتی اصولوں سے ثابت کیا کہ "لامحدود مادہ" یا "لامحدود وقت" ایک مضحکہ خیز تصور ہے۔ انہوں نے عقلی دلائل سے واضح کیا کہ کائنات کا ایک آغاز ہونا ناگزیر ہے، ورنہ یہ نظام چل ہی نہیں سکتا تھا۔ بعد ازاں، امام فخر الدین رازی جیسے مفسرین نے کائنات کی وسعتوں پر بات کرتے ہوئے یہاں تک اشارہ کیا کہ اللہ نے صرف اسی ایک نظام کو نہیں، بلکہ خلا کے اس پار بے شمار دیگر عوالم (Multiverse) کو بھی پیدا کر رکھا ہے جو انسان کی بظاہر نظر آنے والی حد سے باہر ہیں۔
مجموعی طور پر، اولبرز پیراڈوکس کا سفر ہمیں ایک حیرت انگیز فکری موڑ پر لا کر کھڑا کرتا ہے۔ رات کا اندھیرا، جسے ہم محض سورج کے چھپ جانے کا نام دیتے ہیں، دراصل اپنے اندر پوری کائنات کی تاریخ چھپائے ہوئے ہے۔ یہ اندھیرا پکار پکار کر کہہ رہا ہے کہ یہ کائنات نہ تو ازلی ہے اور نہ ہی ساکن؛ بلکہ یہ وقت کے دھارے میں بہتی ہوئی ایک متحرک، بدلتی اور پھیلتی ہوئی مخلوق ہے۔ چودہ سو سال قبل جب انسان کے پاس نہ دوربینیں تھیں اور نہ ہی ریڈ شفٹ ناپنے والے آلات، اس وقت قرآن اور مکتبِ اہل بیت کا ان باریکیوں کو بیان کر دینا اس بات کا بین ثبوت ہے کہ علمِ کائنات کا اصل سرچشمہ وہی ذات ہے جس نے اس وسیع و عریض کائنات کو "کُن" کہہ کر عدم سے وجود کا لبادہ اڑھایا۔


_2026_07_24_13_17_24_24515247.png)
Leave A Comment