پاکستان کی کامیاب ثالثی: عالمی امن کا نیا رخ اور نوبل انعام کا حقدار
تحریر محمد جمیل شاہین راجپوت
تجزیہ نگار و کالم نگار
مشرقِ وسطیٰ کے افق پر چھائے جنگ کے گہرے بادلوں کے درمیان، پاکستان نے ایک بار پھر ثابت کر دیا ہے کہ وہ نہ صرف خطے بلکہ عالمی امن کے لیے ایک ناگزیر قوت ہے۔ حالیہ دنوں میں وزیر اعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی انتھک سفارتی کوششوں کے نتیجے میں ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی میں جو کمی آئی ہے، وہ تاریخ کے سنہری حروف میں لکھی جائے گی۔
وزیر اعظم شہباز شریف کی جانب سے سوشل میڈیا پر دی جانے والی تجویز، جس میں انہوں نے امن کے لیے دو ہفتوں کے ٹائم فریم اور آبنائے ہرمز کو کھولنے کی اپیل کی تھی، محض ایک بیان نہیں بلکہ ایک سوچی سمجھی سفارتی حکمت عملی تھی۔ اس کا فوری اور مثبت جواب سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے آنا اس بات کا ثبوت ہے کہ عالمی طاقتیں پاکستان کی آواز کو اہمیت دیتی ہیں۔
ڈونلڈ ٹرمپ کا اپنی حالیہ تحریر میں وزیر اعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کا نام لے کر شکریہ ادا کرنا اور ان کی درخواست پر حملوں کو معطل کرنے کا اعلان کرنا، پاکستانی قیادت کی بصیرت اور عالمی سطح پر ان کے اثر و رسوخ کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ یہ پہلی بار نہیں ہے کہ پاکستان نے دو حریفوں کے درمیان پل کا کردار ادا کیا ہو، لیکن اس بار کی کامیابی غیر معمولی ہے کیونکہ اس نے ایک ممکنہ عالمی تباہی کو روکنے میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔
اس کامیابی کے پیچھے پاکستان کی عسکری اور سیاسی قیادت کا وہ اشتراکِ عمل ہے جس نے عالمی برادری کو یہ پیغام دیا کہ پاکستان امن کے معاملے میں ایک پیج پر ہے۔ فیلڈ مارشل عاصم منیر کی پیشہ ورانہ مہارت اور اسٹریٹجک اثر و رسوخ نے پسِ پردہ ان مذاکرات کو منطقی انجام تک پہنچانے میں اہم کردار ادا کیا۔ امریکی قیادت کا براہِ راست پاکستانی عسکری قیادت کا حوالہ دینا ظاہر کرتا ہے کہ خطے میں استحکام کے لیے پاکستان کی سیکیورٹی اسٹیبلشمنٹ کا کردار کتنا کلیدی ہے۔
پاکستان: نوبل امن انعام کا اصل حقدار
اب جبکہ دنیا دیکھ رہی ہے کہ کس طرح پاکستان کی مداخلت نے مشرقِ وسطیٰ کو ایک بڑی جنگ سے بچایا ہے، یہ مطالبہ کرنا اب بالکل بجا ہے کہ عالمی برادری پاکستان کی ان خدمات کا اعتراف کرے۔
ڈونلڈ ٹرمپ، جو خود کو ایک ڈیل میکر کے طور پر پیش کرتے ہیں، انہیں چاہیے کہ وہ بین الاقوامی سطح پر پاکستان کی اس "کامیاب ثالثی" کو تسلیم کریں۔ اب وقت آ گیا ہے کہ:
امریکہ اور دیگر عالمی طاقتیں نوبل امن انعام (Nobel Peace Prize) کے لیے پاکستان کا نام باقاعدہ طور پر نامزد کریں۔
دنیا کو بتایا جائے کہ امن صرف اسلحے کے زور پر نہیں بلکہ پاکستان جیسی مخلصانہ سفارتکاری کے ذریعے بھی قائم کیا جا سکتا ہے۔
پاکستان نے اپنی "پہلے امن" کی پالیسی پر عمل کرتے ہوئے ثابت کر دیا ہے کہ وہ ایک ذمہ دار ایٹمی قوت ہے۔ آبنائے ہرمز کا کھلنا اور ایران و امریکہ کے درمیان دس نکاتی تجاویز پر اتفاق، عالمی معیشت اور سلامتی کے لیے بڑی خوشخبری ہے۔ پاکستان کی اس سفارتی فتح نے نہ صرف ملک کا سر فخر سے بلند کر دیا ہے بلکہ پوری دنیا کو ایک نئی امید دی ہے۔ اب یہ دنیا کا فرض ہے کہ وہ پاکستان کو وہ مقام اور اعزاز دے جس کا وہ حقدار ہے۔



Leave A Comment