تحریر: جنید ملک 

دنیا اس وقت جن بڑے بحرانوں سے دوچار ہے، ان میں پانی کا بحران سب سے زیادہ خطرناک اور مستقبل کا فیصلہ کن مسئلہ بنتا جا رہا ہے۔ ایک وقت تھا جب جنگیں سرحدوں، معدنی وسائل یا نظریات پر لڑی جاتی تھیں، مگر اکیسویں صدی کے ماہرین برسوں سے خبردار کرتے آئے ہیں کہ آنے والے زمانے میں سب سے بڑے تنازعات پانی پر ہوں گے۔ آج جنوبی ایشیا کی صورتحال اس پیش گوئی کی عملی تصویر بنتی دکھائی دے رہی ہے، جہاں دریا صرف پانی کے بہاؤ کا ذریعہ نہیں بلکہ کروڑوں انسانوں کی زندگی، معیشت، خوراک اور مستقبل کا سوال بن چکے ہیں۔

News Image

پاکستان ان ممالک میں شامل ہے جہاں معیشت کا ایک بڑا حصہ زراعت پر انحصار کرتا ہے۔ کھیتوں میں لہلہاتی فصلیں، دیہات کی زندگی، کسان کی امیدیں، صنعتوں کی پیداوار اور شہروں کی ضروریات سب ایک ہی حقیقت سے جڑی ہوئی ہیں، اور وہ حقیقت پانی ہے۔ اگر دریا خشک ہوں تو صرف زمین ہی بنجر نہیں ہوتی بلکہ قوموں کے خواب بھی سوکھ جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان کے لیے دریاؤں کا پانی محض قدرتی نعمت نہیں بلکہ قومی بقا کا مسئلہ ہے۔
پاکستان اور بھارت کے درمیان آبی وسائل کا مسئلہ ایک مرتبہ پھر عالمی توجہ کا مرکز بن چکا ہے۔ دریاؤں کے پانی کی منصفانہ تقسیم صرف دونوں ممالک کے درمیان ایک معاہدے کا معاملہ نہیں بلکہ کروڑوں انسانوں کی زندگی، غذائی تحفظ، زرعی معیشت اور خطے کے امن سے براہِ راست جڑا ہوا مسئلہ ہے۔ ایسے حالات میں سندھ طاس معاہدے کی اہمیت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے۔
سندھ طاس معاہدے پر بین الاقوامی سیمینار منگل کو وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے جناح کنونشن سینٹر میں شروع ہوگیا۔
سندھ طاس معاہدے پر بین الاقوامی سیمینار منگل کو وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے جناح کنونشن سینٹر میں منعقد کیا گیا۔ سندھ طاس معاہدے کی اہمیت، آبی وسائل کے تحفظ اور علاقائی تعاون سے متعلق بین الاقوامی سیمینار میں وفاقی وزراء، سیاسی رہنما، ماہرین اور متعلقہ حکام شرکت کی۔ سیمینار کے افتتاحی سیشن سے وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ خطاب کیا۔ پہلے سیشن میں چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری کلیدی خطاب کیا جبکہ پاکستان کے کمشنر برائے سندھ طاس معاہدہ سید مہر علی شاہ بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ سیشن کے اختتام پر سابق وفاقی وزیر ڈاکٹر خرم دستگیر خان خطاب کیا۔ دوسرے سیشن میں وفاقی وزیر موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی ہم آہنگی ڈاکٹر مصدق ملک کلیدی خطاب کیا جبکہ سابق صدر نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی لیفٹیننٹ جنرل (ر) عامر ریاض بھی شرکا سے خطاب کیا۔ سیشن کے اختتام پر سابق وزیر خارجہ حنا ربانی کھر اظہارِ خیال کیا۔ سیمینار کے اختتامی سیشن کے مہمانِ خصوصی نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار تھے ۔ سیمینار میں سندھ طاس معاہدے، پانی کے وسائل کے مؤثر انتظام، ماحولیاتی تبدیلی کے اثرات اور خطے میں آبی تعاون سے متعلق مختلف پہلوؤں پر تفصیل سے تبادلۂ خیال کیا 

وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے واضح کیا ہے کہ پاکستان اپنے آبی حقوق کے تحفظ پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ دریائے سندھ کا نظام پاکستان کی تہذیب، زراعت اور معیشت کی بنیاد ہے، لہٰذا پانی کو کسی بھی صورت میں سیاسی یا سفارتی ہتھیار کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا۔ ان کا یہ مؤقف پاکستان کے عوام کے جذبات اور قومی مفادات کی بھرپور ترجمانی کرتا ہے۔
وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی ڈاکٹر مصدق ملک نے بھی اس مسئلے کے ایک اہم پہلو کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کو صرف پانی کی کمی کا سامنا نہیں بلکہ اصل مسئلہ پانی کے بہاؤ پر کنٹرول اور اس سے متعلق معلومات کی بروقت فراہمی کا ہے۔ ان کے مطابق دریا کے بہاؤ میں بے قاعدگی اور ہائیڈرولوجیکل ڈیٹا کی عدم فراہمی کا براہِ راست اثر کسانوں، دیہی آبادی اور زرعی پیداوار پر پڑ رہا ہے۔
پاکستان کے انڈس واٹر کمشنر سید مہر علی شاہ نے بھی تشویش ظاہر کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ بھارت دریائے چناب کے قدرتی بہاؤ کو متاثر کرنے کی کوشش کر رہا ہے اور سندھ طاس معاہدے کے تحت لازمی ہائیڈرولوجیکل معلومات بروقت فراہم نہیں کر رہا۔ اگر ایسی صورتحال برقرار رہی تو اس کے نتیجے میں پاکستان کی زراعت، غذائی تحفظ اور لاکھوں افراد کا روزگار شدید خطرات سے دوچار ہو سکتا ہے۔
بین الاقوامی قانون کے ماہرین کا بھی یہی مؤقف ہے کہ پانی تک رسائی ہر انسان کا بنیادی حق ہے۔ ان کے مطابق کسی بھی ملک کی جانب سے یکطرفہ طور پر سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنا یا دریا کے پانی کو روکنا بین الاقوامی قوانین اور عالمی اصولوں کی خلاف ورزی تصور کیا جائے گا۔ پاکستان اس معاملے کو عالمی فورمز اور ثالثی اداروں میں بھی مؤثر انداز میں اٹھا چکا ہے اور اس بات پر زور دیتا ہے کہ بالائی ریاست کو زیریں علاقوں کے حصے کا پانی روکنے یا موڑنے کا قانونی اختیار حاصل نہیں۔

دریائے سندھ کا عظیم نظام دنیا کے قدیم ترین آبی نظاموں میں شمار ہوتا ہے۔ اسی دریا نے اس خطے میں تہذیب کو جنم دیا، بستیاں آباد کیں، تجارت کو فروغ دیا اور زرعی خوشحالی کی بنیاد رکھی۔ آج بھی لاکھوں ایکڑ اراضی انہی دریاؤں کے پانی سے سیراب ہوتی ہے۔ اگر ان دریاؤں کے قدرتی بہاؤ میں کسی قسم کی رکاوٹ پیدا ہو، پانی کے بہاؤ کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا جائے یا معاہدوں کی روح سے انحراف کیا جائے تو اس کے اثرات صرف ایک ملک تک محدود نہیں رہتے بلکہ پورے خطے کی سلامتی متاثر ہوتی ہے۔

دنیا بھر میں بین الاقوامی دریاؤں کے حوالے سے ایک اصول ہمیشہ تسلیم کیا گیا ہے کہ بالائی ریاستیں زیریں ریاستوں کے حقوق کا احترام کریں گی۔ پانی کو کبھی بھی دباؤ ڈالنے، سیاسی فائدہ حاصل کرنے یا سفارتی ہتھیار کے طور پر استعمال نہیں کیا جائے گا۔ یہی اصول عالمی قوانین، بین الاقوامی معاہدوں اور انسانی حقوق کے بنیادی تصورات کا حصہ ہیں۔ پانی زندگی ہے، اور زندگی پر کسی ایک ریاست کی اجارہ داری نہ اخلاقی طور پر درست ہے اور نہ قانونی طور پر۔

بدقسمتی سے جنوبی ایشیا میں پانی کے معاملے پر وقتاً فوقتاً ایسے خدشات سامنے آتے رہے ہیں جن سے خطے میں بے یقینی پیدا ہوتی ہے۔ دریا کے بہاؤ میں غیر معمولی تبدیلیاں، معلومات کی بروقت فراہمی میں تاخیر اور پانی کے انتظام سے متعلق پیدا ہونے والے سوالات کسانوں کے لیے پریشانی کا باعث بنتے ہیں۔ ایک کسان جب فصل بوتا ہے تو اس کی پوری امید پانی کے بروقت پہنچنے سے وابستہ ہوتی ہے۔ اگر پانی وقت پر نہ ملے تو مہینوں کی محنت چند دنوں میں ضائع ہو جاتی ہے۔ اس نقصان کا اثر صرف ایک کھیت تک محدود نہیں رہتا بلکہ قومی معیشت، غذائی تحفظ، برآمدات اور عام شہری کی روزمرہ زندگی تک پہنچ جاتا ہے۔

پاکستان پہلے ہی موسمیاتی تبدیلی کے شدید اثرات کا سامنا کر رہا ہے۔ کبھی غیر معمولی سیلاب تباہی مچاتے ہیں تو کبھی طویل خشک سالی زمین کو پیاسا چھوڑ دیتی ہے۔ گلیشیئر تیزی سے پگھل رہے ہیں، بارشوں کا نظام تبدیل ہو رہا ہے اور زیر زمین پانی کی سطح مسلسل نیچے جا رہی ہے۔ ایسے حالات میں اگر سرحد پار آبی وسائل کے انتظام میں بھی غیر یقینی پیدا ہو جائے تو بحران کئی گنا بڑھ سکتا ہے۔ اس لیے پانی کے مسئلے کو سیاسی تنازع بنانے کے بجائے سائنسی، قانونی اور انسانی بنیادوں پر حل کرنا وقت کی سب سے بڑی ضرورت ہے۔

یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ پانی کا مسئلہ صرف حکومتوں یا اداروں کا نہیں بلکہ ہر شہری کا مسئلہ ہے۔ ہمارے اپنے رویے بھی اس بحران کو بڑھانے میں کردار ادا کر رہے ہیں۔ شہروں میں پانی کا بے دریغ استعمال، زرعی شعبے میں فرسودہ آبپاشی نظام، نہروں میں پانی کا ضیاع، آلودگی اور بارش کے پانی کو محفوظ نہ کرنے جیسی کمزوریاں ہمیں اندر سے بھی کمزور کر رہی ہیں۔ اگر ہم دوسروں سے اپنے حقوق کا مطالبہ کرتے ہیں تو ہمیں اپنے وسائل کی حفاظت بھی اسی ذمہ داری سے کرنی ہوگی۔

دنیا کے کئی ممالک نے پانی کو تنازع کے بجائے تعاون کا ذریعہ بنایا ہے۔ مشترکہ کمیشن، جدید ٹیکنالوجی، شفاف معلومات کے تبادلے اور باہمی اعتماد کے ذریعے ایسے مسائل حل کیے گئے جنہیں کبھی ناممکن سمجھا جاتا تھا۔ جنوبی ایشیا بھی اسی راستے پر چل سکتا ہے، بشرطیکہ سیاسی اختلافات کو انسانی ضرورتوں پر ترجیح نہ دی جائے۔ دریا کسی ایک قوم کی جاگیر نہیں ہوتے بلکہ قدرت کی مشترکہ امانت ہوتے ہیں، اور امانت کا تقاضا انصاف، دیانت اور ذمہ داری ہے۔

بین الاقوامی ماہرین مسلسل اس بات پر زور دیتے ہیں کہ مستقبل کی پائیدار ترقی پانی کے منصفانہ استعمال سے وابستہ ہے۔ اگر مشترکہ آبی وسائل کے بارے میں طے شدہ اصولوں کی پاسداری نہ کی گئی تو اس کے اثرات سرحدوں سے بہت آگے تک محسوس کیے جائیں گے۔ خوراک کی قلت، مہنگائی، نقل مکانی، بے روزگاری اور سماجی بے چینی جیسے مسائل شدت اختیار کر سکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ عالمی برادری بھی ایسے معاہدوں کو خطے کے امن و استحکام کی بنیاد قرار دیتی ہے۔

روزنامہ ایشیا اردو میں پبلش مواد

یہ لمحۂ فکریہ بھی ہے کہ ہم پانی کی قدر اس وقت کرتے ہیں جب نہریں خشک ہونے لگتی ہیں یا بارشیں روٹھ جاتی ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ پانی کی حفاظت صرف بین الاقوامی معاہدوں سے ممکن نہیں بلکہ قومی شعور سے بھی وابستہ ہے۔ اگر ہر شہری پانی کو نعمت سمجھ کر اس کے ضیاع سے بچے، اگر جدید آبپاشی نظام اختیار کیے جائیں، بارش کے پانی کو ذخیرہ کیا جائے، آبی آلودگی پر قابو پایا جائے اور قومی سطح پر مؤثر آبی پالیسی اپنائی جائے تو آنے والی نسلوں کو ایک محفوظ مستقبل دیا جا سکتا ہے۔

آج ضرورت اس امر کی ہے کہ پانی کو نفرت، دباؤ اور سیاسی کشمکش کی علامت بنانے کے بجائے امن، تعاون اور مشترکہ بقا کی بنیاد بنایا جائے۔ کیونکہ دریا سرحدوں کو نہیں پہچانتے، وہ صرف زندگی بانٹتے ہیں۔ اگر ان کا بہاؤ رک گیا تو نقصان صرف ایک ملک کا نہیں ہوگا بلکہ پورے خطے کی ترقی، خوشحالی اور استحکام خطرے میں پڑ جائے گا۔

پانی دراصل آنے والی نسلوں کی امانت ہے۔ اس امانت کی حفاظت صرف قانونی ذمہ داری نہیں بلکہ اخلاقی فرض بھی ہے۔ قومیں اسلحے سے کم اور پانی، خوراک اور وسائل کے دانشمندانہ استعمال سے زیادہ مضبوط بنتی ہیں۔ اگر ہم نے آج پانی کی اہمیت کو نہ سمجھا تو آنے والی نسلیں شاید ہمیں اس غفلت پر کبھی معاف نہ کریں۔ وقت کا تقاضا یہی ہے کہ پانی کو تنازع نہیں، زندگی سمجھا جائے، کیونکہ زندگی کا کوئی متبادل نہیں ہوتا۔

You Might Also Like

Leave A Comment

جڑے رہیے

نیوز لیٹر

کیلنڈر

اشتہار