تحریر: جنید ملک 
پاکستان کی سیاست ایک بار پھر ایسے موڑ پر کھڑی ہے جہاں سیاسی اختلاف اور قومی ذمہ داری دونوں ایک دوسرے کے سامنے دکھائی دیتے ہیں۔ پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے 27 ستمبر کو اسلام آباد کی طرف مارچ کا اعلان اور خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ محمد سہیل آفریدی کی جانب سے اس کی قیادت کا فیصلہ ملکی سیاسی منظرنامے میں ایک اہم پیش رفت ہے۔ تحریک انصاف اسے اپنے بانی عمران خان کی رہائی، سیاسی حقوق اور آئینی بالادستی کے مطالبات کے لیے احتجاج کا ذریعہ قرار دے رہی ہے۔

News Image

جمہوریت میں اختلاف کوئی غیر معمولی بات نہیں۔ سیاسی جماعتیں اپنے مطالبات پیش کرتی ہیں، کارکن اپنے مؤقف کے لیے آواز بلند کرتے ہیں اور حکومتوں سے پالیسیوں پر اختلاف کیا جاتا ہے۔ یہی جمہوری نظام کی بنیادی روح ہے۔ تاہم جمہوری حق کے ساتھ ایک دوسری ذمہ داری بھی وابستہ ہوتی ہے: احتجاج اس انداز میں ہو کہ شہری زندگی، ریاستی نظم اور انسانی جانوں کو غیر ضروری خطرات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

اسلام آباد محض ایک سیاسی جلسہ گاہ نہیں بلکہ ملک کا دارالحکومت ہے۔ یہاں پارلیمنٹ، عدالتیں، سفارتی مشنز، سرکاری ادارے، کاروباری مراکز، تعلیمی ادارے اور لاکھوں شہریوں کی روزمرہ سرگرمیاں وابستہ ہیں۔ کسی بڑے احتجاج کے نتیجے میں اگر راستے بند ہوں، معمولات زندگی متاثر ہوں یا سیاسی کارکنوں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے درمیان کشیدگی پیدا ہو تو اس کا بوجھ صرف سیاسی جماعتوں پر نہیں پڑتا بلکہ عام شہری بھی اس کی قیمت ادا کرتا ہے۔

یہاں اصل امتحان سیاسی طاقت دکھانے کا نہیں بلکہ سیاسی تدبر کا ہے۔

حکومت کے لیے بھی 27 ستمبر ایک ذمہ داری کا دن ہوگا۔ ریاست کا کام قانون اور امن و امان برقرار رکھنا ہے، مگر قانون کا نفاذ بھی آئینی حدود، تناسب اور شہری حقوق کو سامنے رکھتے ہوئے ہونا چاہیے۔ پرامن سیاسی اجتماع کو محض اختلاف کی بنیاد پر خطرہ سمجھنا بھی مسئلے کا حل نہیں۔ اسی طرح احتجاج کرنے والوں کے لیے بھی لازم ہے کہ وہ اپنی سیاسی سرگرمی کو پرامن رکھیں، سرکاری و نجی املاک کا تحفظ کریں اور عام شہریوں کے حقوق کو اپنے سیاسی مطالبات کے ساتھ اہمیت دیں۔

پاکستان کی سیاسی تاریخ میں احتجاج اور دھرنوں کی ایک طویل روایت موجود ہے۔ مختلف ادوار میں مختلف سیاسی جماعتیں سڑکوں پر آئیں، حکومتوں پر دباؤ بڑھایا اور اپنے مطالبات منوانے کی کوشش کی۔ ان واقعات سے ایک اہم سبق یہ ملتا ہے کہ سیاسی کشیدگی جب سڑکوں پر شدت اختیار کرتی ہے تو حالات ہمیشہ سیاسی قیادت کی خواہش کے مطابق نہیں رہتے۔ ایک معمولی جھڑپ، غلط فہمی یا اشتعال انگیز واقعہ بڑے بحران کو جنم دے سکتا ہے۔

اسی لیے سیاسی قیادت کو کارکنوں کے جوش کے ساتھ ان کی سلامتی کی ذمہ داری بھی قبول کرنا ہوگی۔

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کی جانب سے وفاقی دارالحکومت کی طرف سیاسی مارچ کی قیادت کا فیصلہ بھی اسی وسیع تناظر میں دیکھا جائے گا۔ ایک صوبائی حکومت کے سربراہ کی سیاسی سرگرمی اور وفاقی حکومت کے ساتھ تعلقات کے اثرات صوبائی و وفاقی سطح کے سیاسی ماحول پر پڑ سکتے ہیں۔ اس معاملے پر مختلف سیاسی اور قانونی آرا موجود ہوسکتی ہیں، تاہم بنیادی اصول یہی ہے کہ تمام فریق آئینی حدود اور قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے اپنا مؤقف پیش کریں۔

دوسری جانب حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات کا دروازہ بند نہیں ہونا چاہیے۔ سیاسی مطالبات کا مستقل حل طاقت کے استعمال سے کم اور سیاسی مکالمے سے زیادہ پیدا ہوتا ہے۔ پارلیمنٹ، عدالتیں اور آئینی ادارے اسی لیے موجود ہیں کہ قومی اختلافات کو ادارہ جاتی راستوں سے حل کیا جاسکے۔ اگر سیاسی جماعتیں ہر بڑے اختلاف کو سڑکوں پر لے آئیں تو ادارہ جاتی سیاست کمزور اور محاذ آرائی کا ماحول مضبوط ہوسکتا ہے۔

عمران خان کے حامیوں کا اپنے قائد کی رہائی کا مطالبہ ان کا سیاسی مؤقف ہے اور اسے پرامن طریقے سے پیش کرنے کا حق جمہوری معاشرے میں موجود ہے۔ اسی طرح حکومت کو قانون کی عمل داری برقرار رکھنے کا اختیار حاصل ہے۔ لیکن دونوں کے درمیان ایک وسیع تر حقیقت بھی موجود ہے: پاکستان کے شہری۔

ایک دکاندار کے لیے سیاسی بحران کا مطلب کاروبار کا بند ہونا ہوسکتا ہے۔ ایک طالب علم کے لیے راستوں کی بندش امتحان یا کلاس سے محرومی کا سبب بن سکتی ہے۔ ایک مریض اور اس کے خاندان کے لیے ٹریفک میں رکاوٹ انتہائی سنگین مسئلہ بن سکتی ہے۔ ایک مزدور کے لیے ایک دن کی آمدنی کا ضائع ہونا گھر کے بجٹ پر اثر ڈال سکتا ہے۔ اس لیے سیاسی فیصلوں کے اثرات کو صرف سیاسی زاویے سے دیکھنا کافی نہیں۔

27 ستمبر سے پہلے سب سے اہم ضرورت رابطے اور وضاحت کی ہے۔ حکومت اور تحریک انصاف دونوں کو یہ واضح کرنا چاہیے کہ احتجاج کی حدود کیا ہوں گی، شہریوں کی آمدورفت کیسے محفوظ رکھی جائے گی، قانون نافذ کرنے والے اداروں کا کردار کیا ہوگا اور کسی ممکنہ کشیدگی سے بچنے کے لیے کون سے عملی اقدامات کیے جائیں گے۔

سیاسی اختلاف کو دشمنی میں تبدیل ہونے سے روکنا بھی قیادت کی ذمہ داری ہے۔ کارکنوں کے جذبات کو سیاسی قوت میں تبدیل کیا جاسکتا ہے، مگر اگر وہی جذبات اشتعال میں بدل جائیں تو نقصان سیاسی جماعت سے کہیں زیادہ وسیع ہوسکتا ہے۔

آج پاکستان کو ایسے سیاسی ماحول کی ضرورت ہے جہاں حکومت اپنی طاقت کو برداشت کے ساتھ استعمال کرے اور اپوزیشن اپنی احتجاجی طاقت کو ذمہ داری کے ساتھ۔ اختلاف برقرار رہ سکتا ہے، مطالبات بھی برقرار رہ سکتے ہیں اور سیاسی جدوجہد بھی جاری رہ سکتی ہے، لیکن اس سب کے باوجود ریاستی اداروں، شہری آزادیوں اور عوامی زندگی کا تحفظ ممکن ہونا چاہیے۔

27 ستمبر کو اصل کامیابی کسی ایک سیاسی فریق کی طاقت کے مظاہرے میں نہیں بلکہ اس بات میں ہوگی کہ شدید اختلاف کے باوجود ملک امن کے ساتھ اس مرحلے سے گزرے۔ سیاست میں فتح اور شکست عارضی ہوتی ہے، لیکن قومی اداروں اور عوامی زندگی پر پڑنے والے اثرات دیرپا ہوسکتے ہیں۔

اس لیے آج سب سے اہم سوال یہ نہیں کہ اسلام آباد کی سڑکوں پر کتنے لوگ جمع ہوں گے۔ اہم سوال یہ ہے کہ سیاسی قیادت اپنے اختلاف کو کس حد تک آئینی، پرامن اور ذمہ دارانہ انداز میں آگے بڑھاتی ہے۔

پاکستان کے عوام سیاسی نعروں سے زیادہ اپنے روزمرہ کے امن، روزگار، تعلیم، کاروبار اور محفوظ زندگی کے خواہاں ہیں۔ سیاسی جماعتیں اپنے مطالبات کے لیے جدوجہد کرتی رہیں، حکومت قانون نافذ کرتی رہے اور عدالتیں اپنے آئینی کردار کے مطابق فیصلے کرتی رہیں—مگر ان تمام سرگرمیوں کے مرکز میں عام پاکستانی کا تحفظ اور جمہوری نظام کا تسلسل ہونا چاہیے۔

27 ستمبر ایک اور سیاسی کشمکش کی تاریخ بھی بن سکتا ہے اور سیاسی بلوغت کی مثال بھی۔ راستہ سیاسی قیادت کے فیصلوں سے متعین ہوگا۔ اختلاف اپنی جگہ رہے، مگر مکالمے کا دروازہ کھلا رہنا چاہیے، کیونکہ جمہوریت میں سب سے پائیدار راستہ وہی ہوتا ہے جو اختلاف کو ختم نہیں کرتا بلکہ اسے پُرامن طریقے سے سنبھالنا سکھاتا ہے۔

27 ستمبر کے معاملے کو صرف حکومت اور تحریک انصاف کے درمیان طاقت کے مقابلے کے طور پر دیکھنا شاید مسئلے کی مکمل تصویر پیش نہ کرے۔ تحریک انصاف کو اپنے سیاسی مطالبات کے لیے پُرامن احتجاج کا حق حاصل ہے، جبکہ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ قانون کی عمل داری اور شہریوں کے تحفظ کو یقینی بنائے۔ دونوں ذمہ داریاں اپنی اپنی جگہ اہم ہیں اور کسی ایک کو دوسرے کی قیمت پر نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔

تحریک انصاف کے لیے ضروری ہوگا کہ احتجاج کو آئینی اور پُرامن حدود میں رکھا جائے، کارکنوں کو اشتعال سے بچایا جائے اور عام شہریوں کی مشکلات کو پیشِ نظر رکھا جائے۔ دوسری طرف حکومت کے لیے بھی امتحان یہی ہوگا کہ وہ احتجاج کے حق اور امن و امان کے تقاضوں میں مناسب توازن قائم کرے اور سیاسی اختلاف کا جواب صرف انتظامی اقدامات کے بجائے سیاسی رابطے اور مذاکرات سے بھی دے۔

آخرکار 27 ستمبر کی اہمیت اس بات سے متعین نہیں ہوگی کہ کتنے لوگ اسلام آباد پہنچے یا حکومت نے احتجاج کو کس حد تک روکنے میں کامیابی حاصل کی۔ زیادہ اہم یہ ہوگا کہ سیاسی اختلاف کے باوجود ملک میں قانون، شہری حقوق اور معمولاتِ زندگی کس حد تک محفوظ رہے۔ اگر فریقین اپنے اپنے مؤقف پر قائم رہتے ہوئے بھی تصادم سے گریز، مذاکرات اور آئینی راستوں کو ترجیح دیتے ہیں تو اختلاف سیاسی عمل کا حصہ رہ سکتا ہے۔

پاکستان میں سیاسی اختلاف ختم ہونا شاید ممکن بھی نہ ہو، اور ضروری بھی نہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ اختلاف کو اس انداز میں سنبھالا جائے کہ حکومت کا اختیار بھی برقرار رہے، اپوزیشن کا احتجاجی حق بھی محفوظ ہو اور عام شہری اس کشمکش کی قیمت ادا کرنے پر مجبور نہ ہوں۔ 27 ستمبر کے بعد سیاسی منظرنامہ کیا رخ اختیار کرے گا، اس کا فیصلہ صرف سڑکوں پر نہیں بلکہ سیاسی قیادت کے رویوں، اداروں کے کردار اور مکالمے کی گنجائش سے بھی ہوگا۔اس نازک سیاسی مرحلے پر وزیراعظم پاکستان شہباز شریف کی سیاسی بصیرت، تدبر اور قیادت بھی ایک اہم امتحان سے گزر رہی ہے۔ موجودہ سیاسی بے یقینی اور بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں وزیراعظم کے لیے یہ ایک اہم موقع ہے کہ وہ اپنی حکومت کے پلیٹ فارم سے مذاکرات، سیاسی مفاہمت اور قومی مکالمے کے دروازے کو مزید وسیع کریں۔ اگر حکومت پہل کرتے ہوئے تمام متعلقہ سیاسی قوتوں کو بات چیت کی میز پر لانے کی سنجیدہ کوشش کرے اور اختلافی معاملات کو آئینی، قانونی اور پارلیمانی دائرے میں حل کرنے کے لیے عملی پیش رفت کرے تو اس سے نہ صرف 27 ستمبر کے حوالے سے پیدا ہونے والے ممکنہ تصادم کے خدشات میں کمی آ سکتی ہے بلکہ ملک میں سیاسی استحکام اور عوامی اعتماد کے فروغ میں بھی مدد مل سکتی ہے۔

موجودہ حالات میں وزیراعظم کی جانب سے تحمل، وسیع النظری اور مکالمے کو ترجیح دینا اس امر کی علامت ہوگا کہ سیاسی اختلافات اپنی جگہ موجود رہنے کے باوجود قومی مفاد، ریاستی استحکام اور عوامی امن کو مقدم رکھا جا سکتا ہے۔ جمہوری نظام کی اصل طاقت محض اختلافِ رائے میں نہیں بلکہ اختلاف کو بات چیت، آئینی عمل اور پارلیمانی طریقۂ کار کے ذریعے حل کرنے کی صلاحیت میں ہوتی ہے۔ اس لیے حکومت اور اپوزیشن سمیت تمام سیاسی قوتوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ کشیدگی کو مزید بڑھانے کے بجائے ایسے راستے تلاش کریں جو سیاسی اختلاف کو تصادم میں تبدیل ہونے سے روک سکیں۔

پاکستان کو اس وقت کسی ایک فریق کی سیاسی فتح یا دوسرے کی شکست سے زیادہ ایک ایسے سنجیدہ اور قابلِ عمل راستے کی ضرورت ہے جو سیاسی درجہ حرارت کم کرے، آئینی و پارلیمانی اداروں کو مضبوط بنائے اور عوام کو مسلسل سیاسی بے یقینی کے ماحول سے نکالنے میں مدد دے۔ ایسے وقت میں بامقصد مذاکرات اور قومی مفاہمت کی کوشش کمزوری نہیں بلکہ جمہوری عمل کو آگے بڑھانے کا ایک ذمہ دارانہ راستہ ہو سکتی ہے۔

You Might Also Like

Leave A Comment

جڑے رہیے

نیوز لیٹر

کیلنڈر

اشتہار