اقوامِ متحدہ کی رپورٹ: طالبان کی ٹی ٹی پی حمایت سے پاکستان میں دہشت گرد حملوں میں اضافہ
اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے تحت کام کرنے والی تجزیاتی معاونت اور پابندیوں کی مانیٹرنگ ٹیم کی تازہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ افغان طالبان کی جانب سے کالعدم تحریکِ طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کی مسلسل حمایت نے پاکستان میں دہشت گرد حملوں کی تعداد اور شدت میں اضافے میں کردار ادا کیا ہے۔
رپورٹ میں 16 دسمبر 2025 سے 9 جون 2026 تک کی صورتحال کا جائزہ لیتے ہوئے پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحد پار دہشت گرد حملوں میں اضافے کی نشاندہی کی گئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق ٹی ٹی پی کی جانب سے پاکستان کے خلاف حملوں میں اضافے کے باعث دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی اور فوجی جھڑپوں میں بھی اضافہ ہوا۔
اقوامِ متحدہ کی مانیٹرنگ ٹیم کے مطابق طالبان کی عبوری حکومت ٹی ٹی پی کے خلاف بعض اقدامات کرتی رہی ہے، تاہم بظاہر ان کا مقصد گروہ کے بنیادی ڈھانچے کو ختم کرنے کے بجائے اسے منظم اور قابو میں رکھنا تھا۔ رپورٹ کے مطابق افغان حکام نے تقریباً 2 ہزار ٹی ٹی پی جنگجوؤں اور ان کے خاندانوں کو پاکستان کی سرحد سے ملحقہ علاقوں سے افغانستان کے اندرونی علاقوں میں منتقل کیا۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ طالبان رہنما ہبت اللہ اخوندزادہ نے پسِ پردہ رابطوں کے ذریعے ٹی ٹی پی قیادت کو پاکستان کے خلاف حملے روکنے کی ہدایت بھی کی، تاہم گروہ کا تنظیمی اور عملی ڈھانچہ بدستور برقرار ہے۔
اقوامِ متحدہ کی رپورٹ میں ٹی ٹی پی، القاعدہ، داعش خراسان اور بلوچ لبریشن آرمی کے درمیان بڑھتے ہوئے روابط اور مشترکہ سہولت کاری کے نیٹ ورکس کی بھی نشاندہی کی گئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق مختلف عسکریت پسند گروہوں کے درمیان تربیت، رسد اور دیگر سہولت کاری کے روابط خطے میں دہشت گردی کے خطرے کو مزید پیچیدہ بنا رہے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق ٹی ٹی پی نے اپنی تنظیمی ساخت میں بھی تبدیلیاں کی ہیں اور نئی ڈویژنز قائم کرنے کے ساتھ اپنی کارروائیوں کا دائرہ بڑھانے کی کوشش کی ہے۔ گروہ نے مارچ میں پاکستانی سکیورٹی فورسز اور شہریوں کے خلاف حملوں میں اضافے کی اپیل بھی کی تھی۔
اقوامِ متحدہ نے داعش خراسان کو طالبان حکومت اور خطے کیلئے ایک بڑا خطرہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ تنظیم نے افغانستان میں اپنے بعض ڈھانچوں کو منتقل اور منتشر کیا ہے، جبکہ پاکستان میں اس کی کارروائیوں میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق داعش خراسان اب کم لیکن زیادہ نمایاں اور بڑے پیمانے پر جانی نقصان پہنچانے والے حملوں پر توجہ دے رہی ہے۔
رپورٹ میں افغانستان میں سرگرم دہشت گرد گروہوں کے باہمی روابط پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا گیا ہے کہ موجودہ صورتحال عسکریت پسند تنظیموں کیلئے نئے مواقع پیدا کرسکتی ہے اور پاکستان سمیت پورے خطے کی سلامتی کیلئے مزید چیلنجز کا باعث بن سکتی ہے۔
_2026_08_13_09_16_12_80842512.jpg)
_2026_08_13_09_14_03_72709571.jpg)
_2026_08_13_09_10_26_89333621.jpg)
Leave A Comment