ٹرمپ کا آبنائے ہرمز کو امریکی علاقہ قرار دینے کا بیان مذاق تھا، وائٹ ہاؤس
واشنگٹن: وائٹ ہاؤس نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے آبنائے ہرمز کو امریکی علاقہ قرار دینے سے متعلق بیان کی وضاحت کرتے ہوئے کہا ہے کہ صدر نے یہ بات مذاقاً کہی تھی۔
امریکی اخبار کے صحافی برائن شوارٹز نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر بتایا کہ وائٹ ہاؤس کے ایک سینئر عہدیدار کے مطابق صدر ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جنگ کے بعد آبنائے ہرمز کو امریکی علاقہ قرار دینے سے متعلق کوئی باقاعدہ اقدام زیرِ غور نہیں لایا۔
عہدیدار کے مطابق صدر ٹرمپ نے اپنے مشیروں کے ساتھ بھی اس معاملے پر کوئی ملاقات یا مشاورت نہیں کی۔ نیویارک میں تقریر کے دوران آبنائے ہرمز سے متعلق بیان دیتے ہوئے وہ دراصل مذاق کر رہے تھے۔
برائن شوارٹز کے مطابق وہ خود ٹرمپ کی تقریر کے موقع پر موجود تھے۔ ان کا کہنا ہے کہ بیان دینے کے بعد صدر ٹرمپ مسکرائے ضرور، تاہم اس کے فوراً بعد ان کے انداز سے ایسا محسوس ہوا جیسے وہ اپنی بات کو مکمل طور پر مذاق نہیں سمجھ رہے تھے۔
واضح رہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حالیہ بیان میں کہا تھا کہ وہ جلد آبنائے ہرمز کو امریکی علاقہ قرار دے دیں گے، جس کے بعد ان کے بیان نے عالمی سطح پر توجہ حاصل کی۔
وائٹ ہاؤس کی وضاحت کے بعد اب امریکی صدر کے بیان کو باضابطہ پالیسی اعلان کے بجائے مزاحیہ یا غیر سنجیدہ تبصرے کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔


_2026_08_13_09_08_14_77758041.jpg)
Leave A Comment