*کیا کبھی ہم ایک قوم بن سکیں گے؟*
*فکر امروز/عزیز میرانی*
(گزشتہ سے پیوستہ ایک تحریر)
جب کتابوں میں یہ پڑھتا تھا کہ ہلاکو خان کی فوجیں بغداد کی اینٹ سے اینٹ بجانے کے لئے تیار کھڑی تھیں لیکن اس شہر کے چوراہوں پر علماء اس بحث میں مصروف تھے کہ کوا حلال ہے یا حرام یا یہ کہ سوئی کی نوک پر کتنے فرشتے بیٹھ سکتے ہیں۔ تو کبھی یقین نہیں آتا تھا اور ایسی باتیں غیر حقیقی اور محض قصے کہانیاں لگتیں۔
اور جب یہ پڑھتا کہ صرف علماء ہی نہیں، عوام الناس بھی کبوتر بازی، کھیل تماشا اور دیگر لغویات میں مگن تھے۔ تو ایسی کہانیوں کو بھی زیب داستان سمجھتا۔
میں نے نسیم حجازی کے ناولوں میں بیان کردہ واقعات کو بھی زیادہ تر ایک مصنف کی تاریخی اختراع سمجھا۔ 
یہی وجہ تھی کہ اس کے ناولوں میں سقوط غرناطہ سے وابستہ قصہ کہانیوں اور محلاتی ریشہ دوانیوں کے بارے میں پڑھا تو وہ بھی کچھ سچ اور زیادہ فسانہ لگا۔
ان کے ایک ناول میں ایک مشہور تاریخی واقعہ کا ذکر ہے۔
'جب سقوط غرناطہ کے بعد اس کے آخری حکمران عبداللہ نے مال و متاع سے لدے اونٹوں اور گھوڑوں کے ساتھ ایک پہاڑی پر کھڑے ہوکر اپنی سلطنت پر الوداعی نگاہیں ڈالیں تو اس کی ماں بھی 'اس بغیر لڑے شکست کھائے قافلے' کے ساتھ تھی۔ عبداللہ زارو قطار رونے لگا۔ آنسوں سے اس کی داڑھی تر ہوگئی اور روتے روتے ہچکی بندھ گئی۔ اس کی دل برداشتہ مگر دلیر ماں سے منسوب یہ الفاظ (سچی یا جھوٹی) تاریخ کا حصہ بن گئے۔ کہ "اے عبداللہ جس سلطنت کو بچانے کے لئے تم اپنی تلوار میان سے باہر نہ نکال سکے، اس کے چھننے پر ٹسوے بہانے کا کیا فائیدہ۔"
لیکن یہ واقعہ بھی مجھے حقیقت سے کوسوں دور لگا۔ آخر ایسی دلیر ماں کی آغوش میں اتنے بزدل بیٹے نے کیسے پرورش پائی تھی؟
******************************
البتہ تاریخ، غرناطہ ہی کے ایک جری جوان کا ذکر بڑے اہتمام سے کرتی ہے۔
*موسی بن ابی غسان*۔
جب کتابوں میں اس کا ذکر آتا تو فخر سے میرا سر بلند اور سینہ پھول جاتا۔
یااللہ یہ چنگاری بھی اس خاکستر میں تھی۔
جب غرناطہ پر بزدل اور کم ہمت لوگ حکمران تھے۔ پوری سلطنت غدار، ابن الوقت اور طالع آزما امرا کے نرغے میں تھی۔ اور سب عیسائی بادشاہ فرڈیننڈ اور ملکہ ازابیلا کے مشترکہ لشکر سے لڑنے کی بجائے ہر قیمت پر صلح کے خواہشمند اور امن کے خواستگار تھے۔ تو اس مرد مجاہد نے گھٹنے ٹیکنے سے انکار کر دیا۔
وہ تلوار لیکر اکیلا، جی ہاں اکیلا دشمن کے لشکر سے لڑنے نکل کھڑا ہوا۔
آسمان دنیا نے میدان کربلا کے بعد یہ نظارہ دوسری بار دیکھا کہ ایک اکیلا شخص پورے لشکر کے سامنے ڈٹ کر کھڑا ہو گیا ہے۔ وہ آخر دم تک نبرد آزما رہا۔ شہادت کے بعد عیسائیوں نے بھی اس کا مذاق نہیں اڑایا۔ بلکہ مسلمان عالم کو بلا کر اس کی نماز جنازہ ادا کی گئی۔ اس جری اور بہادر شخص کی میت کو سلام اور خراج تحسین پیش کیا گیا اور نہائیت ادب و احترام سے سمندر کے کنارے ایک نمایاں مقام پر اس کی تدفین کر دی گئی۔
ایشیا اردو اخبار میں پبلش ارٹیکل لنک مکمل اخبار پڑھنے کے لیے کلک کریں
اس واقعیت کی سچائی پر میں نے اس لئے اعتبار کیا کیونکہ اس کی گواہی مسلم اور عیسائی دونوں اطراف کے مورخین نے دی تھی۔
******************************
موسی بن ابی غسان کی روایت تاریخ کے گرد الود اوراق میں صرف گم ہو کر نہ رہ گئی۔۔ بلکہ ٹیپو سلطان، سراج الدولہ، شاہ اسمعیل اور احمد شاہ جیسے ہزاروں لوگوں نے اس درخشاں تاریخ کو دہرایا اور اپنے خون سے سیراب کیا۔
ایسے واقعات پر حالیہ دور میں پاک بھارت جنگوں کے دوران ہلی کے محاذ پر لڑنے والے دلیر نوجوانوں اور کرنل شیر خان جیسے حقیقی شیروں نے مہر تصدیق ثبت کردی۔
مجھے یہاں قائد اعظم کے وہ تاریخی الفاظ بھی یاد آ رہے ہیں۔ جو اسی فلسفے کی کڑی ہیں۔ بھرے مجمعے میں انہوں نے مشکل وقت میں پوری قوم کو ہر قیمت پر پاکستان کی حفاظت کرنے کی تلقین کرتے ہوئے یہاں تک کہا تھا کہ
"پاکستان نے ہمیشہ قائم رہنا ہے۔ اگر اس پر کبھی کوئی برا وقت آیا اور ضرورت پڑی تو میں اس کی حفاظت کے لئے تنہا لڑوں گا، پہاڑوں میں، میدانوں میں اور جنگلوں میں جنگ جاری رکھوں گا۔ اور اس وقت تک لڑتا رہوں گا جب تک پاکستان کے دشمن مجھے بحیرہ عرب میں نہ پھینک دیں"۔
******************************
افسوس کہ قائد اعظم کے اس فرمان کا قوم نے اس طرح مذاق اڑایا ہے کہ آج پوری قوم باہم دست و گریباں ہے۔ پاکستان کی بقاء اور حفاظت کے لئے نہیں، اس کے زوال کی رفتار کو تیز سے تیز تر کرنے کے لئے۔
******************************
آج قوم کی ایک بہت بڑی تعداد اپنی اپنی پسند کے سیاسی لیڈر اور سیاسی جماعت کی صف میں کھڑی نظر آتی ہے۔
*سچ اور حق کی صفیں خالی ہیں*۔
دہشت گردی کا ناسور جڑیں پکڑ چکا ہے۔ ائے روز بے گناہ لوگوں کا خون بہہ رہا ہے۔ آسمانوں میں ہماری بربادی کے مشورے ہیں۔ دشمن اپنی صفیں باندھ چکا ہے۔ حکمرانوں کو عیاشیوں سے فرصت نہیں۔افسر شاہی کو عوام کے مسائل سے سروکار نہیں۔ نام نہاد عوامی نمائیندے دن رات اپنی مراعات بڑھانے میں مصروف ہیں۔ قوم نوشتہ دیوار پڑھنے کے لئے تیار نہیں۔ ہر طرف سے عاقبت نااندیشی کا مظاہرہ جاری ہے۔
تاہم عوام کے مسائل کے حل اور ان کی جان و مال کی حفاظت کی ذمہ داری حکومت وقت پر عائد ہوتی ہے۔ حکومتی زعما یہ مقدس فریضہ نبھانے میں ناکام ہیں۔ اور نتیجتا" عوام کی مشکلات کم ہونے کی بجائے بڑھ رہی ہیں۔ آبادی کی اکثریت پر ایک بے رحم، طویل اور اندھیری رات طاری ہے۔ نوجوان نسل اپنے مستقبل سے مایوس ہے۔ حکومتوں کی ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ کسانوں کو مراعات دیتی ہیں۔ قومی پیداوار بڑھانے کے جتن کرتی ہیں۔ برامدات بڑھاتی ہیں۔ کاروبار میں وسعت کے مواقع فراہم کرتی ہیں۔ نوجوانوں کے روزگار کے مواقع بڑھانے کے لئے پالیسیاں بناتی ہیں۔ لیکن بدقسمتی سے حکومت وقت کی ٹیکس بڑھاتے رہنے اور اپنی اور اشرافیہ کی مراعات بڑھاتے رہنے کے علاوہ کوئی پالیسی نہیں۔
بڑا المیہ یہ ہے کہ عوام حکمرانوں سے جواب طلبی کرنے کے لئے تیار نہیں۔ وہ سیاسی طور پر تقسیم ہیں اور سب کے اپنے اپنے محبوب لیڈر اور پسندیدہ پارٹیاں ہیں۔ وہ روز و شب تقریروں اور تحریروں کا رخ حکمرانوں کی بجائے ایک دوسرے کی طرف رکھتے ہیں۔
******************************
آج کے ناگفتہ بہ حالات کو میں تاریخ کے ائینے میں دیکھ کر سمجھنے کی کوشش کر رہا ہوں۔ تاریخ کے اوراق دوبارہ پلٹ کر دیکھ رہا ہوں۔ روزانہ کی بنیاد پر انسانی المیے جنم لے رہے ہیں۔ ان سے نظریں چرائے لوگوں کے بحث مباحثوں کو دیکھ کر بغداد کے واقعات جو قصہ کہانیاں لگتے تھے درست نظر آنے لگے ہیں۔ سقوط غرناطہ والے سارے واقعات سچے لگنے لگے ہیں۔ تاریخ انسانی کے ایسے سارے واقعات جن پر شکوک و شبہات کے سائے پڑے ہوئے تھے، ان سب پر یقین آنے لگا ہے۔
ہمارا معاشرہ غفلت کی نیند سے کبھی بیدار بھی ہوگا یا نہیں؟ ہم کبھی سیاسی تقسیم سے نکل کر ایک قوم بن بھی سکیں گے یا نہیں؟ ہم حکمرانوں اور افسر شاہی کے عیش و آرام کا ہی تحفظ کرتے رہیں گے یا کبھی اپنے اور عوامی مفاد کے لئے کھڑے ہوسکیں گے یا نہیں۔
کچھ خبر نہیں 😢😢
_2026_07_11_10_45_12_20638538.jpeg)

_2026_07_24_13_17_24_24515247.png)
Leave A Comment